معاشی ترقی اور بڑھتی ہوئی غربت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ایک حالیہ جائزے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں معاشی ترقی اور اصلاحات کا عمل جس رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اسی رفتار سے غربت و افلاس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ صدی نوے کے عشرے کی نسبت ہندوستان میں فاقہ کشی سے ہونے والی اموات کی شرح اس وقت زیادہ ہے اور ملک کی نصف سے زائد عورتیں اور بچے کم غذائیت کا شکار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی پالیسوں میں دیہی علاقوں پر فوری توجہ کی ضرورت ہے ورنہ حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔ ’غربت اور بھوک سےاموات‘ کے عنوان پیش کی جانے والی اقوام متحد ہ کی اس تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں خوراک کی کمی سے ہر برس بیس لاکھ بچے ہلاک ہوتے ہیں اور چھیالیس فیصد کا وزن پیدائش کے وقت کم ہوتا ہے۔ ایک بڑی آبادی خوراک اور غذائیت کی کمی کا شکار ہے اور عورتیں اس رحجان کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ جبراً مزدوری غیر قانونی ہے لیکن پھر بھی چھ کروڑ سے زیادہ لوگ اس پر مجبور ہیں۔ ماحولیات اور غذائي تحفظ پر کئی کتابوں کی مصنفہ وندنا شیوا کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی غربت کی ذمہ دار حکومت کی اقتصادی پالیساں ہیں۔ ’گذشتہ دس برس میں ملک کی اقتصادی حکمت عملیوں کا ڈھانچہ غریبوں، کسانوں، خواتین اور بچوں کے کفن سے تیار ہوا ہے۔ کسان جو اگاتا ہے وہ کھا نہیں رہا، غریب جو کماتا ہے وہ اسکے پاس ٹھہرتا نہیں، اسی لیے بھوک سے اموات میں اضافہ ہورہا ہے‘۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ 1993 اور دو ہزار تین کے دوران غربت 36 فیصد سے کم ہوکر 26 فیصد ہوگئی ہے، لیکن خوراک کے امور پر اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے والے ماہر جان زگلر نے ہندوستان کے دورہ کے بعد اپنے مشاہدات پر مبنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس نکتہ پر بات ہونی چاہیے کہ غربت میں کمی آئی ہے یا حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔
ترقیاتی امور کے ایک ماہر صحافی دیوندر شرما کہتے ہیں کہ امیری اور غریبی کے درمیان بڑھتی خلیج پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔’اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کواس لیے دبا دیا گیا ہے کیونکہ میڈیا غربت کے مسائل پربات نہیں کرنا چاہتا۔ بڑا افسوس ہے کہ جس ملک کی ایک تہائی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے وہاں کسی عورت کے قتل پر تو روز بات ہوتی ہے، لیکن چند سالوں کے دوران کسانوں میں ہونے والے خود کشی کے ڈیڑھ لاکھ واقعات کے بارے کم کم بات کی جاتی ہے‘۔ تو پھر بھارت کا ’سپر پاور‘ بننے کا خواب کیسے پورا ہوگا اور وہ کیسے ترقی یافتہ ملک بنے گا؟ دیوندر شرما کہتے ہیں کہ امارت اور غربت میں خلیج بڑھتی جارہی ہے۔ ’اگر پانچ فیصد لوگ سپر پاور بننا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے، اپنے آپ تو اپنی پیٹھ سبھی تھپ تھپا سکتے ہیں‘۔ وندنا شیوا کہتی ہیں کہ حکومت ’کارپوریٹ سیکٹر‘ پر توجہ مبذول کیئے ہوئے ہے جبکہ ملک کی ساٹھ فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے۔ ’پہلے لوگ ایک ہزارآٹھ سو کیلریز کھاتے تھے، اب دیہی علاقوں کے تقریباً اسی فیصد لوگوں کی پہنچ صرف ایک ہزار چھ سو کیلریز تک ہے۔ جبکہ صحتمند رہنے کے لیے دو ہزار چارسو کیلریز کی ضرورت ہے۔ آج اسی فیصد بھارت فوڈ ایمرجنسی کا شکار ہے‘۔ زرعی شعبہ کی حالت زار کو ’زرعی ایمرجنسی‘ کا نام دیتے ہوئے، وندنا کا کہنا تھا کہ کسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رحجان ان میں پھیلی غربت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ’خواتین میں خون کی کمی اور بچے کم غذائیت کا شکار، لیکن حکومت معاشی ترقی کا دعویٰ کرتی ہے۔ یہ ترقی کا کونسا پیمانہ ہے؟‘۔
لیکن ایسا نہیں کہ حالات دیہی علاقوں میں ہی خراب ہیں۔ دلی میں ایک گھریلو ملازم اختر اپنی بپتا سناتے ہوئے کہتے ہیں ’ہمیں تین وقت کا کھانا بھی میسر نہیں، ہر روز اٹھارہ گھنٹے کام کرتا ہوں لیکن اس مہنگائی میں بچوں کو پالنا انتہائی مشکل ہے ۔ ایک دن کام نہ کروں تو فاقہ کی نوبت آجاتی ہے‘۔ اس برس مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھارت کی معاشی ترقی کی شرح 9 ۔8 بتائی گئی ہے، جو کہ ابتدائی تخمینے سے زیادہ ہے۔ لیکن یہ بھی درست کہ آئے دن کسان خود کشی کرتے رہتے ہیں۔ غریبوں اور امیروں کے درمیان خلیج وسیع ہوگئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اب حکومت کو بھی دیہی آبادی کی مشکلات کا اندازہ ہوچکا ہے، اسی لیے آئے دن ان کی فلاح و بہبود کی دہائی دی جا رہی ہے، لیکن یہ مسئلہ اب اتنی شدت اختیار کرگیا ہے کہ ہنگامی اقدامات اٹھائے بغیر اس کا حل بہت مشکل ہے۔ | اسی بارے میں کیرالا کے کسانوں کی حالت زار01 July, 2006 | انڈیا مہاراشٹر: کسانوں کے لیئے نیا پیکج01 July, 2006 | انڈیا مہاراشٹرا: کسانوں کی خود کشی14 April, 2006 | انڈیا سب سےبڑی غربت مٹاؤ سکیم 02 February, 2006 | انڈیا بھارت: ترقی کی شرح میں اضافہ30 September, 2005 | انڈیا پیکج خودکشیاں نہ روک سکا21 May, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||