BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 July, 2006, 10:33 GMT 15:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیرالا کے کسانوں کی حالت زار

کیرالا کا علاقہ وائناڈ
یہ علاقہ بے مثال خوبصورتی کا حامل ہے
اب سے پانچ سو برس قبل جن مصالحوں کی تلاش میں یوروپی سیاح واسکو ڈی گامہ کیرالہ کے ساحل پر اترا تھا انہیں مصالحوں کےاگانے والے کسان آج بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔گزشتہ پانچ برسوں میں قرضوں میں ڈوبے یہاں کےتقریباً پانچ سو کسان اب تک خودکشی کر چکے ہیں۔


جنوبی ریاست کیرالہ کے مشرق میں چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں اور ندی نالوں سےگھرا سرسبزو شاداب وائیناڈ کا علاقہ کالی مرچ، کافی اورچائے کے باغات سے بھرا ہوا ہے۔ قدرتی مناظر سے مالا مال اس خوبصورت علاقے میں آنے سے یہ وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ یہاں کے کسانوں کے لیئے زندگی گزارنا مشکل بھی ہو سکتا ہے۔

سلطان بیتری گاؤں میں شجّا کے شوہر نے حال ہی میں خودکشی کی ہے۔ اب شجا اپنے کم سن بیٹے کے ساتھ روزی روٹی کے لیئے پریشان ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’پچھلی فصل کے لیئے بینک سےقرض لیا تھا اور قرضے کی واپسی کے لیے بینک ملازمین سختی کر رہے تھے اسی لیئے میرے شوہر نےخودکشی کرلی تھی‘۔ شجا کی طرح اس علاقے کی بہت سی خواتین بیوہ ہوچکی ہیں۔

کیرالا میں مصالحہ کا پودا
عالمگیریت کی وجہ سے قیمتیں لاگت سے بھی کم ہو گئی ہیں

وائناڈ میں دنیا کی سب سے بہترین کالی مرچ اگائی جاتی ہے۔ لیکن اب چونکہ یہ بیرونی ممالک سے سستے داموں پر درآمد کی جاتی ہے اس لیئے اسکی قیمتیں گر گئی ہیں۔ پہلے یہ پانچ سو روپے فی کلوگرام تھی اور اب ساٹھ روپے کلو بکتی ہے۔

غربت کے سبب کسانوں کی خودکشی کے واقعات اب کئی علاقوں میں اکثر ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن وائناڈ کے چھوٹے چھوٹے کسانوں کی بڑی پریشانی یہ ہے کہ انہیں بازار میں مصالحوں کی اب وہ قیمت نہیں ملتی جتنی انہیں اگانے کے لیئے خرچ کرنی پڑتی ہے۔ بیج اور کھاد کے لیئے قرض لینا پڑتا ہے۔ مزدوری میں بہت پیسے خرچ ہوتے ہیں اور جب قرض کی ادائیگی مشکل بن جائے توخود کشی آخری چارہ بن جاتی ہے۔

 ’میری بہوکے لیئے چار بچوں کی فیس ادا کرنا اور گھر چلانا بہت مشکل ہوگیا ہے
مرنے والے کسان کی ماں

کالی مرچ کی طرح کیرالہ کے کسان ونیلا بھی اگاتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ وہ اسے چار ہزار روپے کلو فروخت کرتے تھے لیکن اب وہ بھی بہت سستی ہوگئی ہے۔

کسانوں کی ان مشکلات سے نمٹنے کے لیئے کئی تنظیمیں بھی وجود میں آئی ہیں۔ ایک تنظیم ’کارشکا سنگھم‘ کے سیکریٹری کرشن پرساد کا کہنا ہے کہ ’درآمدات میں بے احتیاطی اورآزادانہ اقتصادی اصلاحات کا یہ نتیجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ان اشیاء کی قیمتیں گر گئی ہیں‘۔ کرشن کے مطابق ان پالیسیوں کا سب سے زیادہ اثر وائناڈ کے کسانوں پر پڑا ہے اورپانچ سوسے زائد کسان خودکشی کر چکے ہیں۔

پتّن پرم ویل جوئی کے پاس پانچ ایکڑ زمین تھی اور وہ ایک خوشحال کسان تھے۔ لیکن گزشتہ فصل میں انہیں کوئی نفع نہیں ہوا اور قرض ادا نہ کر پانے پر انہوں نے خود کشی کرلی تھی۔ انکی اسّی سالہ ماں اپنے بیٹے کو یاد کرکے رونے لگیں اور کہنے لگیں کہ ’میری بہوکے لیئے چار بچوں کی فیس ادا کرنا اور گھر چلانا بہت مشکل ہوگیا ہے‘۔

بعض کسانوں نے اب مصالحہ اگانا ترک کردیا ہے اور اب وہ ربڑ، خشک میوے یا دوسری اشیاء اگاتے ہیں جس میں انکا نقصان نہ ہو۔ کسانوں کی مشکلیں اب کھیتی تک محدود نہیں ہیں۔ کئی گھروں کے بچوں نے سکول اور کالج جانا چھوڑ دیا ہے اور وہ مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

کیرالا
خود کشی کے واقعات کی بڑی وجہ قرض کا بوجھ ہے

لیکن چونکہ مصالحے کی کاشت اب فائدے مند نہیں ہے اس لیئے کام بھی آسانی سے نہیں ملتا ہے۔ زیادہ تر غریب مزدور دوسروں کے کھیتوں میں کام کرکے اپنا کام چلا تے تھے اور اب وہ بھی مایوس ہیں۔

کالج کی ایک نوجوان طالبہ انّو کوفیس ادا کرنی تھی لیکن پیسوں کا انتظام نہ ہوسکا تو انّو نے خود کشی کر لی۔ اسکے والد کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنے مالک سے قرض مانگا تھا لیکن چونکہ انکی حالت بھی ٹھیک نہیں تھی اس لیئے وہ نہ دے سکے۔ میری بیٹی تناؤ برداشت نہ کر پائی اوراس نے اپنی جان لے لی‘۔

کیرالہ کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھی وائناڈ کے کسانوں کا مسئلہ زیر بحث تھا۔ بائیں محاذ کا کہنا تھا کہ ریاست کی ترقی میں کسانوں کا اہم کردار ہے اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ وزیراعلیٰ اچوتا نندن کا کہنا تھا کہ ’کسانوں کو خصوصی رعایتیں ملنی چاہئیں تاکہ انکی زندگی بہتر ہو اور ساتھ ہی صدیوں پرانی مصالحوں کی کھیتی بھی بچی رہے‘۔

اپنی انوکھی کالی مرچ کے لیئے دنیا بھر میں مشہور وائناڈ گزشتہ چند برسوں سے کسانوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے سبب سرخیوں میں رہا ہے۔ یہاں کے لوگ اس خاص درد کو اچھی طرح محسوس کررہے ہیں جسے گلوبلائزیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔

فیشن ویکلیکمے فیشن تنازعہ
لیکمے منتظمین، ماڈلز پرعریانیت کا مقدمہ درج
گدھاگدھا جیل میں۔۔
جیل جا کر گدھا ضدی ہو گیا ہے: مالک
کپاسکسانوں کی خودکشی
منموہن سنگھ کا دورہ اور اموات پر سیاست
منموہن سنگھدلی ڈائری
مہنگائی، کرائے پر بیوی، نہرو پر مضمون اور کتے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد