زی ٹی وی، ماڈلز: عریانیت کا مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کی میرین ڈرائیو پولیس نے لیکمے انڈیا فیشن ویک کے منتظمین، ذی ٹیلی ویژن کے چیف ایگزیکٹو افسر اور ماڈل کیرل گریشیز سمیت کئی اور ماڈلز کے خلاف عریانیت کا کیس درج کر لیا ہے۔ لیکمے انڈیا فیشن ویک مارچ کے مہینے میں منایا گیا تھا جس میں ریمپ پر چلنے والی ماڈلز وارڈ روب مالفنکشن کا شکار ہوگئی تھیں۔ ایک غیر سرکاری تنظیم راجیو وکاس کیندر کے رضاکار پرکاش راجدیو نے عدالت میں لیکمے انڈیا فیشن ویک کے وارڈ روب مالفنکشن کی دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے مجسٹریٹ ایم ایچ بیلوسے نے پولیس کو پندرہ اگست سے قبل کیس کی تحقیقات کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ میرین ڈرائیو پولیس نے کیس کی تفتیش کے بعد ماڈل کیرل گریشیز فیشن ویک کی منیجنگ ڈائریکٹر روی کرشنن، لیکمے کے روی چوپڑہ اور فیشن ویک کے منتظمین کے علاوہ دیگر کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 292 , 34 کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔ یہ دفعات قابل ضمانت ہیں لیکن ملزمان کو پولیس سٹیشن سے ضمانت نہیں مل سکتی انہیں عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے حاضر ہونا ہو گا۔ اس کا مطلب ہے جن کے خلاف کیس درج ہوا ہے ان کا گرفتار کیا جانا لازمی ہے ۔
لیکمے انڈیا فیشن ویک ممبئی میں اٹھائیس مارچ سے چار اپریل تک منایا گیا تھا۔ اس دوران کئی ماڈلز وارڈ روب مالفنکشن کا شکار ہوئی تھیں۔ ماڈل کیرل گریشیز کے لباس کا اوپری حصہ ریمپ پر چلتے ہوئے گر گیا تھا اسی کے ساتھ ماڈل گوہرخان کے سکرٹ کی زپ پھٹ گئی تھی۔ اس تنازعے کے بعد نائب وزیر اعلی آر آر پاٹل نے ممبئی پولیس کمشنر کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ کیس سوشل سروس برانچ کے سامنے پیش ہوا تھا اور پولیس کے ڈپٹی کمشنر سنجے اپرانتی نے اس کیس کو یہ کہتے ہوئے ختم کر دیا تھا کہ جو کچھ ہوا وہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔ وہ ایک حادثہ تھا۔ شکایت کنندہ پرکاش کا البتہ کہنا تھا کہ جو بھی ہوا وہ پروپیگنڈہ تھا اور اس طرح کی عریانیت ہماری ثقافت کے خلاف ہے۔ | اسی بارے میں لیکمے فیشن شو تنازعات کا شکار رہا02 April, 2006 | فن فنکار فیشن تنازعہ، دوبارہ تحقیقات کا حکم05 April, 2006 | انڈیا انڈیا فیشن ویک اختتام کو پہنچا 09 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||