انڈین بجٹ پرملا جلا ردعمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے عام بجٹ پر سیاسی اور کاروباری حلقوں میں ملا جلا روعمل سامنے آیا ہے۔حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی نےاسے مہنگائی بڑھانےوالا بجٹ قرار دیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان وجے کمارملہوترانے کہا ہے کہ’سروس ٹیکس میں اضافہ اور ٹیکس میں چھوٹ کی حد نہ بڑھائے جانے سے صورتحال مزید خراب ہوگی۔‘ دوسری جانب حکمراں اتحاد کی جماعت راشٹریہ جنتا دل نے اسے ایک کسان دوست بجٹ بتایا اور کہا کہ ’یہ پہلا بجٹ ہے جس میں زرعی اور دیہی شعبے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔‘ البتہ بائيں بازو کی جماعتیوں کو شکایت تھی،انکا کہنا ہے کہ اس میں سرکاری ملازمین او رکسانوں کے لئے بنیادی طور پر کوئی تجاویز نہیں پیش کی گئیں۔ صنعتی حلقوں کابھی ملا جلا ردعمل ہے۔بعض اشیا سے کسٹمز ڈیوٹی ہٹائے جانے اور کم کئے جانے پر تو وہ خوش تھے لیکن فرنج ٹیکس برقرار رکھنے اور سروس ٹیکس میں اضافہ کئے جانے کو انہوں نے غیر ضروری قرار دیا ہے۔ کئی صنعتکار کا کہنا تھا کہ کوئی نیا ٹیکس نہ لگانامناسب تھا لیکن ٹیکسوں سے ہونے والی آمدنی میں زبردست اضافے کے باوجود کوئی ترغیبی قدم نہ اٹھائے جانے پرانہیں حیرت ہوئي ہے۔ سرکردہ صنعتکار راہل بجاج کا کہنا تھا’مجموعی طور پر یہ ایک مثبت بجٹ ہے کوئی بھی وزیرخزانہ کسی بجٹ میں سب کو خوش نہیں رکھ سکتا،البتہ بہت کچھ کئے جانے کی ضرورت تھی جو اس بجٹ میں نہیں ہو سکی ہیں۔‘ | اسی بارے میں اقلیتوں کیلیے خصوصی پروگرام16 February, 2006 | انڈیا ریل سےجائیں،جہاز سےنہیں: ریل بجٹ24 February, 2006 | انڈیا انڈیا: اقتصادی ترقی کے نئے تقاضے 27 February, 2006 | انڈیا انڈیا: 10 فیصد شرحِ نمو کا تخمینہ28 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||