BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 February, 2006, 16:34 GMT 21:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈین بجٹ پرملا جلا ردعمل

کارخانہ
انڈین صنعتکار ترغیبی اقدمات کی توقع کر رہے تھے۔
ہندوستان کے عام بجٹ پر سیاسی اور کاروباری حلقوں میں ملا جلا روعمل سامنے آیا ہے۔حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی نےاسے مہنگائی بڑھانےوالا بجٹ قرار دیا ہے۔

پارٹی کے ترجمان وجے کمارملہوترانے کہا ہے کہ’سروس ٹیکس میں اضافہ اور ٹیکس میں چھوٹ کی حد نہ بڑھائے جانے سے صورتحال مزید خراب ہوگی۔‘

دوسری جانب حکمراں اتحاد کی جماعت راشٹریہ جنتا دل نے اسے ایک کسان دوست بجٹ بتایا اور کہا کہ ’یہ پہلا بجٹ ہے جس میں زرعی اور دیہی شعبے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔‘

البتہ بائيں بازو کی جماعتیوں کو شکایت تھی،انکا کہنا ہے کہ اس میں سرکاری ملازمین او رکسانوں کے لئے بنیادی طور پر کوئی تجاویز نہیں پیش کی گئیں۔
صحت کے شعبے میں 22 فی صد اور تعلیم کے شعبے میں مختص کی جانے والی رقم میں 30 فی صد کے اضافے پر بھی یہ جماعتيں خوش نہیں ہیں۔

صنعتی حلقوں کابھی ملا جلا ردعمل ہے۔بعض اشیا سے کسٹمز ڈیوٹی ہٹائے جانے اور کم کئے جانے پر تو وہ خوش تھے لیکن فرنج ٹیکس برقرار رکھنے اور سروس ٹیکس میں ا‌ضافہ کئے جانے کو انہوں نے غیر ضروری قرار دیا ہے۔

کئی صنعتکار کا کہنا تھا کہ کوئی نیا ٹیکس نہ لگانامناسب تھا لیکن ٹیکسوں سے ہونے والی آمدنی میں زبردست اضافے کے باوجود کوئی ترغیبی قدم نہ اٹھائے جانے پرانہیں حیرت ہوئي ہے۔

سرکردہ صنعتکار راہل بجاج کا کہنا تھا’مجموعی طور پر یہ ایک مثبت بجٹ ہے کوئی بھی وزیرخزانہ کسی بجٹ میں سب کو خوش نہیں رکھ ‎سکتا،البتہ بہت کچھ کئے جانے کی ضرورت تھی جو اس بجٹ میں نہیں ہو سکی ہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد