BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کسانوں کی خود کشی، وزیر اعظم کا دورہ

کپاس
منڈی میں کپاس کی قیمت لاگت سے کم ہے، اس لیئے قرض بڑھتا چلا جاتا ہے
مہاراشٹر کے ضلع یوت مال کے گاؤں کالمب میں بیٹی کی شادی تھی اور کپاس کی کھیتی کرنے والا کسان باپ گوساوی پوار بیٹی کے لیئے جہیز کا سامان لینے گیا تھا، ساہو کار نے قرض دینے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کے پاس گروی رکھنے کے لیئے کچھ نہیں تھا اور پہلے کا قرضہ بقایا تھا۔ مجبور اور بے بس باپ کس منہ سے شادی کے گھر خالی ہاتھ جاتا، اس نے خودکشی کر لی۔

شادی کے گھر میں جب باپ کی لاش پہنچی تو ماتم بچھ گیا لیکن بزرگوں نے شادی کو نہیں روکا۔ ماتم کے درمیان لڑکی کی رخصتی کر دی گئی۔

ریاست کے علاقے ودربھ کے ہی یوت مال ضلع میں کسان مہاپلی کی ایک یا دو نہیں تیرہ ایکڑ زمین تھی۔ اس نے بیٹی کی شادی کرنے کے لیئے نو ایکڑ زمین فروخت کر دی۔ چار ایکڑ کھیتی سے پورے گھر کا گزارہ مشکل تھا اور وہ زمین بھی بینک کے قرض کی وجہ سے گروی تھی۔ کپاس کی فصل کے لیئے وہ پھر بینک کے پاس قرض مانگنے گیا لیکن پچھلی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے بینک نے قرض دینے سے انکار کر دیا۔ مہاپلی نے گھر کے ہی کنوئیں میں کود کر جان دے دی۔

ودربھ کے اضلاع میں یہ واقعات روز مرہ کا معمول بن گئے ہیں۔ خودکشی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ کسانوں کے لیئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ودربھ جن آندولن سمیتی کے اعداد و شمار کے مطابق ایک دن میں اوسطاً تین کسان خودکشی کر رہے ہیں۔گزشتہ برس یکم جون سے اس برس پچیس جون تک 592 کسانوں نے خود کشی کی۔ مہاراشٹر کے دو گاؤں سے صرف پچیس جون کو پانچ کسانوں کی خود کشی کی خبریں آئی ہیں۔ ودربھ جن آندولن سمیتی کے صدر کشور تیواری کا دعوی ہے کہ انہوں نے جو اعداد و شمار دیئے ہیں وہ بالکل صحیح ہیں۔

قرض کی وجوہات
مہاراشٹر کے علاقے ودربھ میں جہاں قرض کے بوجھ تلے دبے کسانوں کی خود کشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے،زیادہ تر کپاس کی فصل اگائی جاتی ہے۔ یہاں بیالیس لاکھ کسان ہیں جن میں سے چھتیس لاکھ کسان صرف کپاس کی فصل اگاتے ہیں۔ کپاس کی کھیتی کرنے والے کسانوں کی ہی حالت سب سے زیادہ خراب ہے۔

امریکہ میں کپاس کی فصل
مغربی ممالک اپنے کسانوں کو کثیر زر تلافی دیتے ہیں

یہاں بینک سے قرض لینا سب سے زیادہ مشکل ہے کیونکہ اگر پہلے قرض کی ادائیگی نہیں ہوتی تو بینک قرض نہیں دیتا، دوسرے بینک کی شرح سود چودہ فیصد ہے۔ اس لیئے کسان مجبور ہو کر ساہوکار کے پاس جاتے ہیں اور یہ ساہوکار اکثر ان کے کھیت گروی رکھ لیتے ہیں اور رقم کی ادائیگی نہ کرنے پر کسان اپنی زمین تک سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پھر ایک بڑے گھر کا خرچ چلانا جب مشکل ہو جاتا ہے تو بے بسی انہیں خودکشی پر مجبور کر دیتی ہے۔

ایسے کئی ساہوکاروں کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کی گئی ہے اور حکومت نے ان کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا ہے لیکن پولیس ان کی خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہے۔ ان کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں مقدمہ بھی زیر سماعت ہے اور ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کی سرزنش بھی کی ہے۔

اس زبوں حالی کی وجہ یہاں کے کسان حکومت کی غلط پالیسی بتاتے ہیں۔ یہاں کسان جو کپاس اگاتے ہیں اسے وہ بازار میں محض ایک ہزار پانچ سو روپے یا ایک ہزار سات سو روپے فی کوئنٹل بیچنے پر مجبور ہیں جبکہ ان کی لاگت ہی دو ہزار روپے سے زیادہ ہوتی ہے۔ حکومت نے سن دو ہزار پانچ میں 10.7 ارب روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا تھا لیکن اس سے کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔

حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کسانوں کی کپاس اچھے داموں خریدے گی۔ دو ہزار چار اور پانچ میں حکومت نے ایسا کیا بھی اس دوران حکومت نے 242 لاکھ کوئنٹل کپاس خریدی لیکن ایک بار پھر دو ہزار پانچ اور چھ کے دوران صرف چودہ لاکھ کوئنٹل کپاس خریدی گئی جس کی وجہ سے کسانوں کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا اور وہ اپنا قرض ادا نہیں کر سکے۔

تیواری کا الزام ہے کہ حکومت غیر ممالک سے کپاس مہنگے داموں پر منگواتی ہے اور اس لیئے ریاست کے کسان اپنی فصل بیچ نہیں پاتے۔

اموات پر سیاست
 زراعت اور اس سے جڑے معاملات کی ذمہ دار ریاستی حکومت ہوتی ہے اور ریاست مہاراشٹر میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی ہے
شرد پوار

حالات کو بگڑتے دیکھ کر یہاں پہلے مہاراشٹر کے گورنر ایس ایم کرشنا نے دورہ کیا اور اب وزیر اعظم منموہن سنگھ تیس جون کو ان اضلاع کا دورہ کریں گے۔ اس سے قبل وزیر اعظم نے مرکزی وزیر برائے زراعت شرد پوار کی سرپرستی میں کسانوں کی خودکشی کے بڑھتے واقعات کا جائزہ لینے کے لیئے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ شرد پوار خود مہاراشٹر سے ہیں اور یہاں کے وزیر اعلی بھی رہ چکے ہیں۔

وزیر اعظم کے دورے کے اعلان کے ساتھ مہاراشٹر حکومت بھی حرکت میں آگئی۔ اب تک ہنگامی طور پر کلکٹرز کی دو میٹنگیں طلب کی گئی ہیں۔

پوار کی کمیٹی نے صرف مہاراشٹر ہی نہیں انڈیا کی چار ریاستوں کے بتیس اضلاع کی نشاندہی کی ہے جہاں کسانوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ حکومت نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ایک ہزار چھ سو تین کسانوں نے خود کشی کی جن میں سے ساٹھ فیصد کو واقعی مالی امداد کی ضرورت تھی۔

بھارتی کسان
پانی کی ترسیل بھی ایک بڑا مسئلہ ہے

رپورٹ میں کیرالا ، کرناٹک، آندھرا پردیش اور مہاراشٹر کے چھ اضلاع وردھا، امراؤتی، یوت مال، بلڈھانہ، واشم اور آکولہ کو سب سے زیادہ متاثرہ علاقے قرار دیا گیا ہے۔

اموات پر سیاست
مرکزی وزیر برائے زراعت شرد پوار نے وزیر اعظم کے ساتھ دورے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس انہیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یاد رہے پوار نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر ہیں اور مہاراشٹر میں ان کی پارٹی اور کانگریس کا اقتدار میں اتحاد ہے۔ وزیر اعظم نے کسانوں کی اموات کا ذمہ دار محکمہ زراعت کی غلط پالیسیوں کو قرار دیا ہے جس سے پوار ناراض بتائے جاتے ہیں۔ پوار کا کہنا ہے کہ زراعت اور اس سے جڑے معاملات کی ذمہ دار ریاستی حکومت ہوتی ہے اور ریاست مہاراشٹر میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی ہے۔

کسانوں کے مطالبات
جن آندولن سمیتی کے صدر کشور تیواری نے کسانوں کی خودکشی کا پورا نقشہ، تفصیلات اور اپنے مطالبات کی فہرست وزیر اعظم کو دینے کے لیئے تیار کر رکھی ہے۔ ان کے مطابق وہ مہاراشٹر کے کسانوں کے لیئے تین ہزار کروڑ روپے امداد کے طور پر چاہتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت غیر ممالک سے درآمد کرنے والی کپاس پر کم از کم ساٹھ فیصد ڈیوٹی عائد کرے۔ حکومت کسانوں سے فی کوئنٹل کپاس تین ہزار روپے کے حساب سے خریدے اور کپاس کے لیئے دیئے جانے والے بی ٹی کپاس بیج کی ناکامی کو قبول کرے اور کوئی دوسرا قدم اٹھائے۔

اسی کے ساتھ حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کے قرض کی شرح سود کم کی جائے۔ انہیں پانی کی ترسیل یقینی بنائی جائے اور ان کے بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروریات کو پورا کیا جائے۔

کسان پریشان حال
سیلابی ریت نے بہار میں کھیتوں کو برباد کر دیا
اسی بارے میں
سب سےبڑی غربت مٹاؤ سکیم
02 February, 2006 | انڈیا
دل کے لیے دل سے کوششیں
20 December, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد