بہار کے کاشتکار ریت سے پریشان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کے ہزاروں کاشت کار ان دنوں کھیتوں میں جمع ریت سے پریشان ہیں۔ ایک مطالعہ کے مطابق بہار میں تقریباً دو لاکھ اسی ہزار ہیکٹر رقبے پر ریت جمع ہے جس سے سنگین ماحولیاتی عدم توازن پیدا ہو گیا ہے۔ بہار کا کل رقبہ 94 لاکھ ہیکٹر ہے جس میں سے 69 لاکھ ہیکٹر رقبہ سیلاب زدہ ہے۔ بہار میں سیلاب سے تباہی ہر سال کا معمول ہے مگر گزشتہ برس آئے سیلاب سے انکی کھڑی فصل تو برباد ہو ہی گئی لیکن اس کے بعد وہ وہ اگلی فصل بھی نہیں لگا سکے۔ اب ریت کی وجہ سے انکے کھیت کسی کام کے نہیں رہ گئے ہیں۔ سیلاب کے ساتھ آئي ریت کی وجہ سے صرف کھیت ہی بےکار نہیں ہوئے ہیں بلکہ تالاب اور دوسرے آبی ذرائع بھی ریت سے بھر گئے۔ اسکے نتیجے میں مچھلی پالنے والے طبقے کے سامنے بھی بے روزگاری کا مسئلہ ہے۔ شمالی بہار کے مشہور انجینئرگ کالج مظفرپور انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر آچنتیہ اور پروفیسر سریش کمار نے اس سلسلے میں تحقیق کی ہے۔ انکی تحقیق کے مطابق گزشتہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے سیتامڑھی اور شوہر ضلع کے ساتھ ساتھ دربھنگہ اور مظفرپور کے وسیع علاقے میں بھی ندیوں کی ریت پھیل گئی ہے اور پانی سوکھنے کے بعد وہیں جمع ہو گئی ہے۔ بہار میں سیلاب کا سبب بننے والی سبھی قابل ذکر ندیاں گنڈک، کوشی، باگمتی، لکھندئی اور مہانندا نیپال سے نکلتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||