مہاراشٹرا: کسانوں کی مالی مدد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حکومت نے ریاست مہاراشٹر کے کسانوں کو مالی مدد کی پیش کش کی ہے۔ ریاست کے میں قرض نہ چکا سکنے والے کسانوں کی خود کشی کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر واقعات کپاس کی کاشت کے لیے جانے جانے والے علاقے ودھرب میں سامنے آئے ہیں۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ آئندہ تیس جون کو اس علاقے کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ودھرب علاقے میں گزشتہ مہینے اسّی کسانوں نے خود کشی کی تھی جبکہ گزشتہ برس خودکشی کرنے والوں کی تعداد 450 تھی۔ مہاراشٹر کی حکومت نے گزشتہ برس یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ سال دوہزار ایک اور پانچ کے درمیان ریاست میں ایک ہزار سے زائد کسانوں نے خود کشی کی ہے۔ ودھرب میں تقریبا تیس لاکھ کسان ہیں جو بیشتر کپاس کاشت کرتے ہیں۔ ان کسانوں کو بین الاقوامی سطح پر تجارتی اصول وضوابط میں تبدیلی، کپاس کی قیمتوں میں کمی، بینک سے ملنے والے قرض میں مختلف قسم کی دشواریاں اور کپاس کے بیجوں کی کم قیمت پر عدم دستیابی جیسی کئی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر کے ایک اہلکار کے مطابق مسٹر سنگھ ان پریشان حال کسانوں کے لیئے ایک خاص مالی پیکج پر غور کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم نے جمعرات کو ایک میٹنگ بھی طلب کی ہے۔ اس پیکج میں پچیس ہزار روپے تک کا قرض معاف کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کسانوں کو مفت میں بیج فراہم کرنے اور جن کسانوں کی فصل تیار ہے انہیں بلا سود قرض دینے جیسی تجاویز بھی زير غور ہیں۔ حکمراں یو پی اے اتحاد نے 2004 میں ملک کی کمان سنبھالنے کے بعد یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ زرعی شعبے کی پریشانیوں کے حل کی پوری کوشش کرے گی۔ ریاست آندھرا پردیش اور مہاراشٹر میں خودکشی کرنے والے کسانوں کے مسئلہ کی بنیاد پر ہی کانگریس نے پارلیمانی انتخابات میں ووٹ مانگے تھے لیکن اس کے باوجود ودھرب میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں کو ئی کمی نہیں آئی ہے۔ گزشتہ ہفتے بائيں بازوں کی جماعتوں نے وزير اعظم اور یوپی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی سے ملاقات کے دوران ان کسانوں کے لیئے ضروری اقدامات کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔ پلائنگ کمیشن نے بھی اس مسئلہ پر ایک رپورٹ وزير اعظم کو پیش کر چکا ہے۔ گزشتہ دو برسوں ميں ماہرین کی تین ٹیموں نے مرکزي حکومت کو اپنی رپورٹز پیش کی ہیں لیکن حالات میں کوئی واضح تبدیلی نہیں دیکھی گئی ہے۔
کسانوں کے قومی کمیشن کے ممبر اتل کمار انجان نے بی بی سی کو بتایا کہ سوت اگانے والے کسانوں کے لیئے اب تک کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ودھرب سے واپس آنے کے بعد کمیشن نے سرکاری بینکوں کو کسانوں کے لیئے چار فیصد کی شرح پر قرض فراہم کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن حکومت نے یہ شرح کم کر کے صرف سات فیصد کی جو کسانوں کے لیئے ناکافی تھی۔ زرعی مسائل کے ماہر تصور کیئے جانے والے صحافی پی سائناتھ ودھرب کے کسانوں کی مشکلات کا ذمہ دار صرف مرکزی حکومت کو ہی سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وہاں کوئی قدرتی آفت نہیں آئی ہے اور نہ ہی کوئی وبا پھیلی ہے، موجودہ حالات 1990 سے جاری حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں‘۔ | اسی بارے میں مہاراشٹرا: کسانوں کی خود کشی14 April, 2006 | انڈیا پیکج خودکشیاں نہ روک سکا21 May, 2004 | انڈیا کسانوں کے لئے مدد کا اعلان19 May, 2004 | انڈیا سینکڑوں پنجابی کسان گرفتار03 November, 2004 | انڈیا دل کے لیے دل سے کوششیں20 December, 2005 | انڈیا بھارتی پنجاب کے کسان، تبدیلی کے خواہاں10 May, 2004 | انڈیا بہار کے کاشتکار ریت سے پریشان14 June, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||