بھارتی پنجاب کے کسان، تبدیلی کے خواہاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امر سنگھ بھارتی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں عزیز پور میں کسان ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’کتنی ہی حکومتیں آئیں اور گئیں، لیکن مجھ جیسے غریبوں کے لیے کسی نے کچھ نہیں کیا‘۔ امر سنگھ کے چار بیٹے ہیں جن میں سے تین پیسے نہ ہونے کی وجہ سے پڑھائی چھوڑ چکے ہیں۔ انہوں نے اب دوسرا کاروبار بھی شروع کردیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ صرف کھیتی باڑی سے گزارہ بہت مشکل ہے۔ سنگھ کا کہنا ہے ’ہمیں بنیادی ضروریات زندگی بھی میسر نہیں۔ اگر بجلی و پانی اور سستی کھاد دستیب ہو تو میں اپنے خاندان کو کم از کم کھانا تو صحیح طور پر کھلا سکوں‘۔ ملک کی اسی فیصد گندم اور 43 فیصد چاول بھارتی پنجاب میں پیدا کیے جاتے ہیں۔ زراعت ہی بیشتر لوگوں کا ذریعہ آمدنی ہے اور اس پیشے سے منسلک تمام افراد ہی کے پاس اپنی زمین ہے لیکن ان کی کاشت کی گئی گندم اتنی کم قیمت پر فروخت ہوتی ہے کہ ان کا اپنا گزارہ مشکل ہے۔ امر سنگھ نے پیر کے روز ووٹ ڈالا۔ ان کا کہنا ہے ’سابقہ حکومتیں ہمارے لیے کچھ نہ کرسکیں اب وقت آگیا ہے کہ کسی اور کو آزمایا جائے‘۔ ’ایک بہتر زندگی‘ کا خواب ہی ایسا محرک تھا جس کی بنیاد پر زیادہ تر لوگوں نے ووٹ ڈالے ہیں۔ ایک اور کسان راجندر سنگھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ’تبدیلی‘ کے لیے ووٹ ڈالا ہے۔ کم از کم پولنگ کے دن ان غریبوں کا خیال تھا کہ وہ ایک بہتر مستقبل لانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ پنجاب میں تیرہ پارلیمانی نشستیں ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں کانگریس نے آٹھ نشستیں جیتی تھیں جبکہ شیرومانی اکالی دل کے حصے میں پانچ آئیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||