سینکڑوں پنجابی کسان گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمالی ریاست پنجاب کی پولیس نے ان سینکڑوں کسانوں کو گرفتار کر لیا ہے جو کپاس کی کم سےکم قیمت میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی کمی پر احتجاج کر رہے تھے۔ کسان رہنماؤں کے مطابق حکومت کے اس اقدام کا مقصد کمیشن ایجنٹوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ پنجاب کےمختلف اضلاع سے ہمارے نامہ نگاروں نے مقامی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی خبر دی ہے۔خبروں کے مطابق یہ جھڑپیں اس وقت شدت اختیار کر گئیں جب پولیس نے کسانوں کو ریل کی پٹڑیوں پر رکاوٹیں رکھنے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ ضلع بھٹنڈہ کے جنوب مغربی گاؤں چک باکھو میں پولیس نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ بھی کی۔ ان جھڑپوں میں مظاہرین اور پولیس والوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ امرتسر کے نواحی گاؤں چھبہ میں دس زخمی افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے۔ بھارتی کسان یونین کے ترجمان کے مطابق کسان کپاس کی قیمت میں کمی کے علاوہ حکومت کی جانب سے نادہندہ کسانوں کی زمینوں کی نیلامی پر بھی ناراض ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||