BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 June, 2006, 09:48 GMT 14:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منموہن کی کسانوں سے ملاقات

کپاس
منڈی میں کپاس کی قیمت لاگت سے کم ہے، اس لیئے قرض بڑھتا چلا جاتا ہے
انڈین ریاست مہاراشٹر میں سینکڑوں کسانوں کی خودکشیوں کے بعد وزیراعظم منموہن سنگھ نے علاقے کا دورہ کیا ہے۔

منموہن سنگھ مہاراشٹر کے کسانوں کے لیئے ایک بڑے امدادی پیکج کا اعلان کرنے والے ہیں۔ وہ اپنے اس دو روزہ دورے پر جمعہ کو ناگپور پہنچے ہیں۔

اس دورے میں ان کے ساتھ مرکزی وزیر برائے زراعت شرد پوار ، مہاراشٹر کے وزیرِاعلٰی ولاس راؤ دیش مکھ ، نائب وزیرِاعلٰی آر آر پاٹل، وزیر برائے بجلی سشیل کمار شندے اور دیگر افسران بھی آئے ہیں۔

وزیرِاعظم اپنے دورے کے دوران پہلے ودربھ کے دھامن گاؤں پہنچے جہاں انہوں نے کسانوں سے ملاقات کی۔ اس کے بعد وہ وائپھڑا گاؤں پہنچے جہاں کسانوں سے ملاقات کے دوران ریاستی افسران بھی موجود تھے جن کی موجودگی میں کسانوں نے کھل کر اپنی مشکلات بیان نہیں کیں۔

’ودربھ جن آندولن سمیتی‘ کے صدر کشور تیواری جنہیں وزیراعظم کے دورے سے بہت سی امیدیں تھیں اب مایوس ہیں۔ انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’یہ سب ایک تماشہ لگ رہا ہے کیونکہ ریاستی افسران کے چنگل میں پھنسے کسان ڈر کے مارے کچھ کہہ ہی نہیں سکتے۔ مجھے بھی وزیرِ اعظم سے ملنے نہیں دیا گیا اس لیئے میں نے ریاستی پرنسپل سیکرٹری کو اپنا میمورنڈم پیش کیا ہے‘۔

تیواری نے اپنے میمورنڈم میں مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کے پرانے تمام قرضے معاف کر دیئے جائیں اور نئی فصل اگانے کے لیئے بینک سے چھ فیصد شرح سود پر قرض دیا جائے۔ حکومت کسانوں سے کپاس فی کوئنٹل تین ہزار روپے میں خریدے اور انہیں دو سال تک ہر ماہ تیس کلو اناج دو روپے کلو کے حساب سے دیا جائے تاکہ وہ فاقہ کشی نہ کریں۔ اس کے علاوہ وزیرِاعظم مالی امداد کا جو بھی اعلان کریں اس کی تقسیم کے لیئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ہر ماہ امداد کا جائزہ لینے کے بعد اس کی رپورٹ مرکزی حکومت کو پیش کرے۔

ریاست مہاراشٹر کے ان متاثرہ علاقوں میں اس برس میں اب تک سات سو پنتالیس کسان خودکشی کر چکے ہیں۔ خود کشی کرنے والے کسانوں کی بدحالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خودکشی کرنے والوں میں سے متعدد کے اہلِ خانہ کے پاس آخری رسومات کی ادائیگی کے لیئے بھی رقم نہیں تھی اور انہیں اس لیئے چندہ کرنا پڑا۔

مہاراشٹر کے بیشتر دیہات میں آج بھی کسان فصل کے لیئے بارش کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ آبپاشی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ بجلی مہنگے داموں پر ملتی ہے جو ایک عام کسان کی پہنچ سے باہر ہے۔ آبپاشی کے لیئے85۔1984 میں اندرا گاندھی گھوشی سکیم کا اعلان کیا گیا تھا لیکن آٹھ ارب کے اس منصوبے پر کام آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔

ریاستی حکومت نے اس دوران اپنی کارکردگی بہتر دکھانے کے لیئے وزیراعظم کے پہنچنے سے قبل ہنگامی طور پر کئی اقدامات کیئے تھے اور کئی کسانوں کو قرض معافی کے خطوط بھی دیئےگئے ہیں جبکہ دھامن گاؤں کی سڑکیں آناً فاناً بنائی گئی ہیں۔

دسمبر میں ریاستی حکومت نے ایک ارب روپے کی جس امداد کا اعلان کیا تھا اس کا فائدہ کسانوں کو نہیں ہوا ہے کیونکہ اس سکیم کے مطابق کسانوں کو اس رقم کا زیادہ تر حصہ تین سال کی مدت میں ملنا تھا اور یہی وجہ تھی کہ یہ امداد کسانوں کی خود کشیاں روکنے میں ناکام ثابت ہوئی۔

تیواری کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت بھی فوری طور پر قرضے معاف نہیں کیئےگئے اور نئی فصل کے لیئے پیسے نہیں ملے تو کسانوں کی خودکشیوں کو نہیں روکا جا سکتا اور وزیراعظم کا یہ دورہ بےمعنی ثابت ہوگا۔

کسان پریشان حال
سیلابی ریت نے بہار میں کھیتوں کو برباد کر دیا
اسی بارے میں
سب سےبڑی غربت مٹاؤ سکیم
02 February, 2006 | انڈیا
دل کے لیے دل سے کوششیں
20 December, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد