انڈیا اناج درآمد کرے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں حکومت نے غذائی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے دال چاول اور گیہوں کو درآمد کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ حکومت نے دال کی برآمدات بھی پابندی عائد کردی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے کھانے کی اشیاءکی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے اسی لیئےحکومت نے ان چیزوں کو باہرسے لانے کی اجازت دی ہے۔ کابینہ کی ایک اہم میٹنگ کے بعد وزیر خزانہ پی چدمبرم نے بتایا کہ ’گیہوں، دال اور شکر کی قیمتوں میں بہت زیاد اضافہ ہورہا ہے اور انکی کمی کو پورا کرنے کے لیئے کابینہ نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس فیصلے سے افراط زر کی بڑھتی شرحوں پر قابو پایا جاسکے گا‘۔ چدمبرم نے کہا کہ ’دالوں کی برآمدات پر فوری طور سے روک لگا دی گئی ہے‘۔ پرائیوٹ کمپنیاں کافی دنوں سے یہ مطالبہ کر رہی تھیں کہ انہیں رعایتی قیمتوں پر ان اشیاء کودرآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔ وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے بعض دیگر اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہیں لیکن عام طور پرمینوفیکچر کی گئی اشیاء کی قیمتیں معمول کے مطابق ہیں۔ بھارت میں مسور، مونگ اور دوسری دالیں تقریباستّر روپے کلو بک رہی ہے۔ ٹماٹر اور دیگر سبـزیوں کی قیمتیں بھی دگنی ہوگئی ہیں۔ تاہم وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ موسم کی مناسبت سے ہے اور یہ وقتی ہے۔ حکومت نے ریاستی حکومتوں کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ اگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بے قابو ہو رہی ہوں تو انہیں اس سلسلے میں مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔ ادھر حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ پارٹی نے بڑھتی قیمتوں پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کے ترجمان پرکاش جاؤڈیکر نے کہا ہے کہ کانگریس پارٹی کے دور اقتدار میں اکثر ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الوقت زبردست گرمی ہے اور خراب موسم کے سبب سبزیوں کی پیداوار میں کمی آئی ہے اسی لیئے قیمتیں مہنگی ہورہی ہیں۔ |
اسی بارے میں بھارت: ترقی کی شرح میں اضافہ30 September, 2005 | انڈیا سونے کی قیمت میں اضافہ18 May, 2006 | انڈیا بھارت: پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ06 September, 2005 | انڈیا انڈین بجٹ پرملا جلا ردعمل28 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||