مہاراشٹر: کسانوں کے لیئے نیا پیکج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم منموہن سنگھ نے مہاراشٹر میں ودربھ کے چھ اضلاع کے کسانوں کے لیئے سینتیس ارب پچاس کروڑ روپے کے امدادی پیکج کا اعلان کیاہے۔ متاثرہ افراد کی فوری مدد کے لیئے ان چھ اضلاع کے کلکٹرز کو پچاس لاکھ روپے بھی دینے کا اعلان کیاگيا ہے۔ ودربھ کے دو روزہ دورے کے دوران وزیر اعظم نے پیکیج کے اعلان کے ساتھ کسانوں کو نصیحت بھی کی کہ وہ کھیتی کے علاوہ اس کے متبادل کام جیسے پولٹری، ڈیری، مچھلی فارم اور کپاس کے علاوہ دیگر فصلیں اگانے کی بھی کوششیں کریں ۔ اس مالی امداد سے وردھا، امراؤتی، یوت مال، واشم اور آکولہ کے کسانوں کو فائدہ ہو گا۔ وزیر اعظم نے سات سو بارہ کروڑ روپے قرضہ معاف کرنے کے لیئے مختص کیئے ہیں۔ کسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بیج اور فصل کے لیئے نئے سرے سے قرض لے سکتے ہیں اس کے لیئے ایک سو اسی کروڑ روپے دیئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کسانوں کو خبردار کیا کہ وہ ساہوکار کے چنگل میں نہ پھنسیں اور سرکاری بینکوں سے قرض لیں۔ ریاست میں آبپاشی کے کئی چھوٹے بڑے منصوبے ہیں۔ وزیر اعظم نے ریاستی حکومت کو ان کی جلد از جلد تکمیل کی ہدایت دی ہے اور اس کے لیئے اس پیکج سے دو سو چالیس کروڑ روپے دیئے جانے کا اعلان کیاہے۔ کسانوں کو فصل اگانے اور کاشت کاری کے علاوہ متبادل کام کرنے کے لیئے تین سو پندرہ کروڑ روپے کا فنڈ مختص کیا گیا ہے جو کسانوں میں پانچ سال کے عرصہ میں تقسیم ہو گا۔
مہاراشٹر کے ودربھ میں سینکڑوں کسانوں کی خودکشیاں روکنے کے لیئے دو روزہ دورے پر آئے ہوئے وزیر اعظم کو انڈیا کی حزب اختلاف جماعت کے کارکنان کا غصہ بھی جھیلنا پڑا اور ساتھ ہی کئی کسانوں نے وزیر اعظم کے دورے کا بائیکاٹ بھی کیا۔ وزیر اعظم کو پروگرام کے مطابق کولجھرے گاؤں کے کسانوں کے گھروں میں جا کر ان کے حالات کا اندازہ لگانا تھا لیکن موسم کی خرابی کی وجہ سے وہ وہاں نہیں گئے اور ان سے ملاقات کے لیئے انہیں گاؤں سے باہر اپنے طیارہ کے پاس ملنے کے لیئے بلایا۔ ناراض کسانوں نے منموہن سنگھ کے اس بلاوے کو ٹھکرا دیا۔
ریاستی حکومت میں حزب اختلاف کی جماعت شیو سینا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اراکین نے مظاہرے بھی کیئے اور پولیس کو ایک ایم ایل اے سنجے سنگھ راٹھور سمیت کئی افراد کو گرفتار بھی کرنا پڑا۔ وزیر اعظم کے اس امدادی پیکج کو ودربھ جن آندولن سمیتی کے صدر کشور تیواری نے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’فوری طور پر کسانوں کو کوئی مدد نہیں دی گئی ہے۔ ان کے قرض معاف کرنے کے بجائے صرف ان کا سود معاف کیا گیا ہے اس لیئے قرض تو جوں کا توں ہی رہے گا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ زیادہ تر کسان تو ساہوکاروں کے چنگل میں ہیں اور حکومت نے بینک سے لیئے قرض پر سود معاف کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس پیکج میں حکومت نے کپاس کی خریداری پر کوئی رعایت نہیں دی اگر کسان کسی طرح فصل اگا بھی لیتے ہیں تو پھر انہیں بازار میں کم داموں پر فروخت کرنا پڑے گا اور غیر ممالک سے کپاس پر درآمدی ڈیوٹی پر بھی اضافہ کا مطالبہ نظر انداز کر دیا گیا ہے‘۔ جس وقت وزیر اعظم گاؤں میں کسانوں کی تکالیف سن رہے تھے اس وقت بھی آکولہ اور ایک گاؤں سے دو کسانوں کی خود کشی کی اطلاعات آئی تھیں۔ اس طرح ایک سال میں صرف ودربھ میں خودکشی کرنے والے کسانوں کی تعداد بڑھ کر چھ سو آٹھ ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم نے جو پیکج دینے کا اعلان کیا ہے اس میں زیادہ رقم طویل مدتی پروگرام کے لیئے ہے اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ کسانوں کی قرض کی رقم فوری طور پر معاف نہیں ہوئی تو یہ خودکشیوں کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا۔ |
اسی بارے میں منموہن کی کسانوں سے ملاقات30 June, 2006 | انڈیا کسانوں کی خود کشی، وزیر اعظم کا دورہ28 June, 2006 | انڈیا مہاراشٹرا: کسانوں کی مالی مدد21 June, 2006 | انڈیا مہاراشٹرا: کسانوں کی خود کشی14 April, 2006 | انڈیا ایک روپے کے لیے خودکشی24 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||