BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 September, 2005, 11:53 GMT 16:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک روپے کے لیے خودکشی
بھارت کے نصف سے زیادہ بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں: اقوامِ متحدہ
بھارت میں ایک بارہ سالہ لڑکی نے اس لیے خودکشی کر لی کہ اس کی ماں کے پاس اسے دینے کےلیے ایک روپیہ نہیں تھا۔

ثانیہ خاتون نامی یہ لڑکی اپنی ماں کے ہمراہ کلکتہ کے شمال میں ایک گاؤں میں حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے خیموں میں رہائش پذیر تھی۔

ثانیہ عام طور پر سکول میں دوپہر کو کچھ نہیں کھاتی تھی لیکن جمعہ کو اپنی ہم جماعت لڑکیوں کو چاول کھاتے دیکھ کر اس نے اپنی ماں سے ایک روپے کی فرمائش کی۔

اس فرمائش پر اس کی ماں نے اسے جھڑک دیا اور جب ماں کام سے واپس آئی تو اس نے اپنی بیٹی کو چھت سے لٹکتے ہوئے پایا۔

مقامی افسر نکل چندرا نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ’ اسے صرف ایک روپیہ چاہیے تھا لیکن غربت کی وجہ سے اس کی ماں اسے یہ رقم نہیں دے سکتی تھی‘۔

ثانیہ کی ماں زینب بوار ایک بیوہ ہیں جو کہ پرس پور نامی گاؤں کےگھروں میں کام کرتی ہیں۔ وہ ثانیہ کو ان گھروں سے ملنے والا کھانا کھلاتی تھیں۔ زینب کا کہنا تھا کہ ’میں نے اسے پیسے نہیں دیے کیونکہ میرے پاس پیسے تھے ہی نہیں اور جب اس نےضد کی تو میں نے اسے جھڑک دیا‘۔

زینب کے مطابق وہ اور ان کے بیٹے کبھی بھی ماہانہ پانچ سو ستّر روپے سے زیادہ نہیں کما سکے۔

بھارتی معیشت میں گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے لیکن اس کا اثر ملک کے نچلے طبقے تک نہیں پہنچ سکا ہے اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے نصف سے زیادہ بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد