BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 September, 2005, 12:13 GMT 17:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈانس بار گرلز خود کشی کرنے پر مجبور

ڈانس بار
ریاست مہاراشٹر میں زیادہ تر ڈانس بار ممبئی میں ہیں
ممبئی میں ڈانس بار بند ہونے کے بعد سے اب تک تین ڈانس بارگرلز خود کشی کر چکی ہیں۔

ڈانس بار بند ہونے کے سبب بے روزگار ہونے والی ہزاروں لڑکیاں ملک کی کئی ریاستوں میں جسم فروشی کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

حال ہی میں مینا رامو سنگھ نامی بارگرل نے دوپٹہ گلے میں ڈال کر خودکشی کر لی۔ جھوپڑ پٹی میں رہنے والی مینا کی ایک چھوٹی بیٹی ہے لیکن مینا کے شوہر نہیں ہیں ۔

ڈانس بار بند ہونے کے بعد اس کے پاس کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں تھا ۔پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس نے کھانا بنایا ،کپڑے دھوئے اور سب نے سمجھا کہ وہ سونے چلی گئی لیکن اس نے اندر جا کر خود کشی کر لی ۔

اس کی لاش کا پولیس نے پوسٹ مارٹم نہیں کیا ہے اور گزشتہ چار دنوں سے لاش کوپر ہسپتال کے مردہ خانے میں ہے ۔

بار گرلز ایسو سی ایشن کے صدر ورشا کالے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں لڑکیاں جسم فرشی کے دھندے میں شامل ہو چکی ہیں ۔جے پور ،اندور ، دہلی ،بنگلور حتکہ کلکتہ کے سونا گاچی علاقہ میں یہ لڑکیاں آج جسم فروشی کرنے پر مجبور ہیں ۔

مہاراشٹر حکومت نے قانونی طور پر ریاست بھر کے ایک ہزار دو سو ڈانس باروں کو بند کرنے کا حکم جاری کیاتھا۔جس سے پچھتر ہزار ڈانس بار گرلز اور اتنی ہی تعداد میں ہوٹل میں کام کرنے والے ملازمین بے روزگار ہو گئے ہیں۔

نئے قانون کے تحت ڈانس بار میں کام کرنے والوں کو کم از کم تین سال کی سزا ہو سکتی ہے ۔پولیس نے شہر کے کئی علاقوں میں بار پر چھاپے مارے اور لڑکیوں کو گاہکوں کے ساتھ گرفتار کیا تھا ۔

ڈانس بار گرلز ایسو سی ایشن اور بیئر بار اینڈ ریستوران ایسوسی ایشن نے اپنے اپنے طور پر عدالت میں حکومت کے فیصلہ کے خلاف اپیل داخل کی ہے ۔جس میں انہوں نے سب سے پہلے عبوری راحت کا مطالبہ کیا تھا۔

ڈانس بار بند ہونے سے صرف لڑکیوں اور ہوٹل میں کام کرنے والے ہی نہیں بلکہ اس سے منسلک کئی اور لوگوں کے روزگار ختم ہو چکے ہیں جس میں رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور بھی شامل ہیں۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ شہر میں فائیو اسٹار ہوٹل اور پب چلتے ہیں جن میں بھی ڈانس ہوتا ہے لیکن حکومت نے ان پر پابندی عائد نہیں کی ہے اس لیے ایک ہی ریاست میں حکومت کی یہ دوغلی پالیسی غلط ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد