زیادہ بچوں والوں کا پانی بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں کیلے اور گنے کے ان کاشتکاروں کو آبپاشی کے لیے پانی نہیں ملے گا جن کے دو سے زیادہ بچے ہوں گے۔ پانی کے ریاستی وزیر کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پانی کی کمی اور بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ مہاراشٹر کی ریاستی پارلیمان کے ایوانِ بالا نے اس قانون کی حمایت کی ہے اور اسے ایوانِ زیریں میں پیر کو پیش کیا جائے گا۔ اگر یہ بل منظور کر لیا گیا تو اس کا اطلاق ان کسانوں پر نہیں ہو گا جن کے پہلے ہی دو سے زائد بچے ہیں۔ مہاراشٹر کو پانی کی کمی کے سبب گزشتہ چند برس کے دوران قحط کا سامنا رہا ہے اور اس کے نتیجےمیں سینکڑوں کسانوں نے خودکشی بھی کی ہے۔ اس بل کے حمایت کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ اس قانون کی ضرورت اس بنا پر ہے کہ پانی کے ذخائر جوں کے توں ہیں جبکہ آبادی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس قانون میں ریاست میں گنے اور کیلے کے تمام کاشتکاروں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ پانچ برس کے اندر آبپاشی کے لیے ’سپرنکلنگ سسٹم‘ کا استعمال شروع کر دیں ورنہ ان کو ملنے والا پانی بند کر دیا جائے گا۔ اس قانون پر مہاراشٹر کی کسان ایسوسی ایشن کے بانی شرد جوشی کا کہنا تھا کہ ’ اگر حکومت آبپاشی کے سلسلے میں کسانوں پر پابندی لگانا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کسانوں کی مالی مدد بھی کرے چاہے وہ قرضے کی صورت میں کیوں نہ ہو‘۔ یاد رہے کہ زرعی اعتبار سے مہاراشٹر بھارت کی بہترین ریاستوں میں سے ہے تاہم اسے ماضی قریب میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||