بھارت کی نیم کے جملہ حقوق پر جیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت نے امریکہ کے ساتھ دس سال کی مقدمہ بازی کے بعد نیم کو دوائیوں میں استعمال کرنے کا بھارتی حق منوا لیا ہے۔ یورپین پیٹنٹ آفس (ای پی او) نے 1995 امریکی محکمہ زراعت اور امریکی کمپنی ڈبلیو گریس کے نیم کو استعمال کرنے کے جملہ حقوق کو تسلیم کیا تھا۔ بھارت کی تین خواتین نےجن کو بھارتی حکومت کی حمایت حاصل تھی اس جملہ حقوق کے فیصلے کو چیلنج کیا۔ بھارت نے اپنے دلائل میں کہا ہے کہ وہ برصغیر میں لوگ صدیوں سے نیم کے درخت کو دوا کے طور پر استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے نیم کے جملہ حقوق محفوظ کرانے پر ساری دنیا میں احتجاج کیا گیا اور اس کو حیاتیاتی چربہ سازی کے نام سے تعبیر کیا گیا۔ بھارت اس سے پہلے بھی امریکہ کمپنیوں کی طرف سے باسمتی چاول اور ہلدی کے جملہ حقوق محفوظ کرانے پر بھی کامیاب قانونی چارہ جوئی کر چکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||