بنارسی دریافت، کنڈوم کانیااستعمال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر میں ریشمی ساڑھیاں بنانے کے لئے مشہور بھارتی شہر بنارس میں روزانہ چھ لاکھ کنڈوم یا مانع حمل غبارے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مگر ایسا فیملی پلاننگ یعنی بچوں کی پیدائش میں وقفے یا جنسی امراض سے تحفظ کے لیے نہیں کیا جاتا، بلکہ بنارسی ساڑھیاں بنانے والے جولاہے اپنی کھڈیوں کو رواں رکھنے کے لیے ان کنڈومز پر لگی چکنائی یا تیل کو شٹل پر ملتے ہیں۔ اس سے شٹل کی سطح نرم اور چکنی ہوجاتی ہے اور ساڑھی کے تانے بانے بننے میں آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس تیل کا فائدہ یہ ہے کہ اگر یہ ریشم کے تاروں پر لگ بھی جائے تو داغ نہیں چھوڑتا اور اس طرح بنارسی ساڑھی اپنی قیمت نہیں کھوتی۔ صرف بنارس میں ڈیڑھ سے دو لاکھ ہاتھ یا بجلی سے چلنے والی کھڈیاں موجود ہیں اور کم و بیش سب ہی اس ٹیکنیک کا استعمال کرتی ہیں۔ ایک دن میں ہر کھڈی میں تین سے چار کنڈوم کی چکنائی لگائی جاتی ہے۔ پہلے تو جولاہے فیملی پلاننگ کے دفتر سے مفت میں کنڈوم حاصل کرکے ذخیرہ کر لیتے تھے۔ کھڈی بچاؤ تحریک کے کنوینر محفوظ عالم کہتے ہیں کہ بعد میں فیملی پلاننگ والوں کو اس کا پتہ چل گیا اور انہوں نے سرکار سے مفت کنڈوم حاصل کرکے جنرل سٹوروں پر بیچنا شروع کر دیئے۔ اور جنرل سٹور والنے دس روپے درجن کے حساب سے جولاہوں کو فروخت کرنے لگے۔ محفوظ عالم کہتے ہیں کہ عمر رسیدہ جولاہے اس مقصد کے لیے کنڈوم کا استعمال کرنے سے کتراتے ہیں مگر نوجوان ہر کام تیز رفتاری سے کرنا چاہتے ہیں۔ بعض جولاہوں کو خوف ہے کہ اگر صافین کو پتہ چل گیا کہ بنارسی ساڑھیاں بنانے میں کنڈوم کا تیل استعمال ہوتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ ان کی مصنوعات خریدنا چھوڑ دیں۔ محفوظ عالم کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بہتر تیل دستیاب ہو تو وہ کنڈوم کی چکنائی کا استعمال بند کردیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||