مہاراشٹرا کے اہم معرکے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں شخصیات کےگرد گھومنے والی انتخابی مہم، جس میں سونیا گاندھی کے غیرملکی ہونے کا معاملہ اور اٹل بہاری واجپئی کا ایک یہ امیج کہ وہ ہندوستان کے سب سے مقبول رہنما ہیں، پورے ملک کی طرح مہاراشٹرا ریاست میں بھی حالیہ عام انتخابات کی نمایاں خصوصیت ہے۔ چھبیس اپریل کو ہونے والی لوک سبھا کے دوسرے مرحلہ کی پولنگ میں مہاراشٹرا میں چوبیس نشستوں کے لیے انتخابات ہوں گے۔ ان میں ہندوستان کے سب سے بڑے تجارتی شہر ممبئی کی چھ نشستیں بھی شامل ہیں۔ مہاراشٹرا میں، جو نشستوں کے اعتبار سے یو پی کے بعد دوسری بڑی ریاست ہے۔ مہاراشٹرا میں اس بار مقابلہ دو بڑے اتحادوں کے درمیان ہو رہا ہے جس میں ایک طرف حکمران اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس یا این ڈی اے ہے جس میں وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی بھارتیہ جنتا پارٹی اور بال ٹھاکرے کی شو سینا شامل ہیں۔ دوسری طرف کانگریس اور پانچ سال پہلے اس سے ٹوٹ کر بننے والی مہاراشٹرا کے سابق وزیراعلیٰ شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) نے پہلی بار انتخابی اتحاد بنایا ہے۔ ریاست کی سطح پر این سی پی کی حکومت قائم ہے۔ انتخابی مہم اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے اور آخری روز این سی پی کے شرد پوار نے اپنے آبائی علاقہ بارہ متی میں گزارا جہاں سے وہ لوک سبھا کے لیے امیدوار ہیں۔اس سے ایک روز پہلے انہوں نے ممبئی میں اداکار گویندا کے حلقہ میں انتخابی مہم میں خاصا مصروف دن گزارا تھا۔ دوسری طرف ممبئی جہاں تین اہم مقابلے ہو رہے ہیں وہاں پر بھی امیدواروں نے روڈ شوز کئے جن میں امیدوار گاڑی میں بیٹھ کر حلقہ کا دورہ کرتے ہیں اور سڑکوں کے کنارے رک رک کر خطاب کرتے جاتے ہیں۔ ممبئی میں گویندا اور سنیل دت کانگریس کے امیدوار ہیں جبکہ لوک سبھا کے اسپیکر منوہر جوشی شو سنہا اور بی جے پی کے امیدوار ہیں۔ منوہر جوشی کا مقابلہ تو عام طور سے یکطرفہ خیال کیا جاتا ہے اور ان کی پوزیشن خاصی مضبوط بتائی جاتی ہے۔ تاہم سنیل دت کا، جو متعدد بار اس حلقہ سے جیتتے آئے ہیں، اس بار سخت مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔ ان کے مقابلہ میں شو سینا کے سنجے نرپوؤن ہیں جنہوں نے فلمی ستاروں، پونم ڈھلوں اور سنیل سیٹھی کے ساتھ اپنے حلقے کا دورہ کیا۔ دوسری طرف گویندا کا دلچسپ مقابلہ بھارتی جنتا پارٹی کے شمالی ممبئی سے پانچ بار جیتنے والے رام نائک سے ہے جو وفاقی وزیر پٹرولیم ہیں۔ گویندا کی مہم سے خطاب کے لئے سونیا گاندھی بھی ممبئی کا دورہ کر چکی ہیں اور فلم سٹار زینت امان ان کے لئے انتخابی مہم میں شریک رہیں۔
ممبئی شہر میں مسلمان اور عیسائی اقلیتوں کے ووٹ بھی کچھ حلقوں میں، مثلاً سنیل دت کا حلقہ، نتائج کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں اور دونوں جماعتیں ان کو اپنی طرف کھینچنےمیں مصروف ہیں۔ کانگریس کے انتخابی دفاتر سے ایسے پمفلٹ بانٹے گئے ہیں جن میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام اور بیسٹ بیکری کیس جیسے واقعات کی تصاویر اور تفصیلات دے کر حکمران جماعت کو ووٹ نہ دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ مہاراشٹرا میں گزشتہ عام انتخابات میں حکمران اتحاد این ڈی اے نے کانگریس کا تقریباً صفایا کر دیا تھا لیکن اس بار مقابلہ سخت ہے۔ دو روز پہلے خود وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی ممبئی میں این ڈی اے کے جلسہ سے خطاب کر کے گئے ہیں جہاں بال ٹھاکرے نے کانگریس کو ہیجڑوں کی جماعت قرار دیا۔ کانگریس اور این سی پی کا زیادہ زور اس بات پر رہا ہے کہ خشک سالی سے اس ریاست کی زراعت تباہ ہوگئی ہے۔ شرد پوار کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی پالیسی سے یہاں شوگر ملیں بند ہوگئی ہیں جو ملک میں چینی کی پیداوار کا چالیس فیصد مہیا کرتی تھیں۔ کانگریس اور این سی پی کے رہنما مرکزی حکومت کی مہاراشٹرا سے ناانصافیوں کو اجاگر کر رہے ہیں کہ اس نے خشک سالی سے نمٹنے اور شوگر ملیں چلانے کے لیے ضروری امداد فراہم نہیں کی۔ ریاست کے پسماندہ اضلاع پر مشتمل ودھاربہ کے علاقہ میں پسماندہ ذاتوں اور دلتوں کی بڑی آبادی ہے۔ یہاں ایک الگ ریاست کا مطالبہ بھی موجود ہے جس کی بنیاد پر ووٹ کانگریس (اور این سی پی)، بے جے پی(اور شو شینا) کے ساتھ ساتھ ودھاربہ راجیہ پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور بھارتی رپبلکن پارٹی میں تقسیم ہونے کا امکان ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مہاراشٹرا کے عوام خشک سالی جیسے معاملات کو اہمیت دیتے ہیں یا ذات پات اور شخصیات کے معاملات پر ووٹ ڈالتے ہیں۔ اس بار مہاراشٹرا کے انتخابی نتائج کی خاص اہمیت ہے کیونکہ کانگریس اور این سی پی کے اتحاد سے حکمران جماعت کی نشستیں کم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے جس کا اثر مرکز میں حکومت بنانے پر ہوگا۔ اتوار کو ممبئی کے اخبارات میں حکمران جماعت بی جے پی اور اس کی اتحادی شو سینا کی طرف سے اشتہارات شائع ہو رہے ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ ’اطالوی عینک اتار کر دیکھئے کہ پچھلے پانچ سال میں کتنے ترقیاتی کام ہوئے ہیں‘۔ ایک اور اشتہار میں کہا گیا ہے کہ ’ہم اپنے مخالفوں کو مبارک باد دیتے ہیں کہ انہیں ایک ارب ہندوستانیوں میں سے اپنا قائد نہیں مل سکا‘۔ یہ اشتہارات حکمران اتحاد این ڈی اے کی کانگریس کے خلاف انتخابی مہم کا حصہ ہیں جس میں کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کے، جو سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کی بیوہ ہیں، اطالوی نژاد ہونے کو ہدف بنایاگیا ہے۔ جمعہ کے روز ممبئی میں اٹل بہاری واجپئی نے خود کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کے بدیسی ہونے کا معاملہ اٹھایا اور ان کے اتحادی اور کانگریس سے الگ ہو کر نئی پارٹی بنانے والے مہاراشٹرا کے سابق وزیراعلیٰ شرد پوار سے پوچھا کہ کیا وہ ایک غیرملکی کو وزیراعظم قبول کرلیں گے؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||