BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 March, 2005, 15:04 GMT 20:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مردوں کے لیے مانع تولید ٹیکہ

ٹیکہ لگوانے والے اروند کمار
ٹیکہ لگوانے والے اروند کمار
ہندوستان کے طبی ماہرین نے مردوں کے لیے دنیا کا پہلا مانع تولید انجکشن تیار کیا ہے۔ سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ اس انجکشن کی ایک خوراک کا اثر تقریباً دس برس تک رہتا ہے اور اگر اس درمیان اولاد پیدا کرنے کی خواہش پیدا ہو جائے تو دوسرے انجکشن کی مدد سے اس کا اثر ختم کیا جا سکتا ہے۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کھڑگ پور کے اسکول آف میڈیکل سائنسز اور ٹیکنالوجی کے سربراہ پروفیسر ایس کے گوہا نے بی بی سی کو بتایا کہ 1972 میں جب انہوں نے اس کی تحقیق شروع کی تھی اس وقت مردوں کے لیے آپریشن کے علارہ خاندانی منصوبہ بندی کا کوئی دوسرا طریقہ موجود نہیں تھا۔

ابتدائی دنوں میں انہوں نے ٹیکہ تیار کرنے کا منصوبہ نہیں بنایا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف تجربات اور جانچ کے بعد انہوں نے ’ری سگ‘ یعنی ’ریورسیبل انہیبشن آف اسپرم انڈر گائڈنس‘ نامی یہ انجکشن تیار کیا ۔ یہ تحقیق صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے شعبے اور طبی تحقیق کی کونسل کے تحت کی گئی ہے۔

پروفیسر ایس کے گوہا نے بتایا کہ یہ دوا اسی رگ میں داخل کی جاتی ہے جس کو کاٹ کر مردوں میں نسبندی کا آپریشن کیا جاتا ہے۔ اس آپریشن میں اس نلی کا تقریباً ایک سے ڈیڑھ سنٹی میٹر حصہ کاٹ کر نکال دیا جاتا ہے۔

یہ انجکشن اسی نلی میں لگایا جاتا ہے۔ یہ دوا سپرم کے راستے میں ایک
’امپلانٹ ‘ کا کام کرتی ہے اور جیسے ہی سپرم اس دوا سے ملتا ہے اس کی تاثیر ختم ہوجاتی ہے۔ اور سپرم کا انڈا ’فرٹلائز‘ یعنی ذرخیز کرنے کی طاقت کھو دیتا ہے۔ چار سے پانچ روز میں دوا کا اثر شروع ہو جاتا ہے جو تقریباً دس برس تک رہتا ہے اور اگر اس درمیان اولاد کی خواہش دوبارہ پیدا ہو جائے تو ایک دوسرے انجکشن کی مدد سے اس کا اثر ختم کیا جا سکتا ہے۔

دارالحکومت دِلّی کے ایل این جے پی ہسپتال کے مردانہ فیملی پلاننگ شبعہ کے سرکردہ ڈاکٹر ایج سی دتا نے بی بی سی کو بتایا کہ ریسرچ کے دوران جانچ کے لیے یہ ٹیکہ دو مرحلوں میں تقریباً سو مردوں کو لگایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلا مرحلہ سن 2000 میں اور دوسرا سن 2003 میں انجام دیا گیا تھا ۔

یہ ٹیکہ لگوانے والے اروند کمار نے بی بی سی کوبتایا ’ چھ جولائی 2000 میں میں نے ٹیکہ لگوایا تھا اور اب تک مجھے کسی طرح کی کوئی شکایت نہیں ہے‘۔

یہ ٹیکہ ایک نازک رگ میں لگایا جاتا ہے اور اس لیے اس کے لگانے کا طریقہ بھی کافی مختلف ہے۔ آئی آئی ٹی کھڑگ پور کے پروفیسر گوہا نے بتایا ’فی الحال جو ڈاکٹر یہ ٹیکے لگائیں گے انہیں دو سے تین ہفتے کی تربیت دی جائے گی تاکہ انجکشن لگانے کی صحیح تکنیک انہیں معلوم ہو جائے ۔

ڈاکٹر دتاّ نے بتایا کہ یہ ٹیکہ اپریل 2006 تک بازار میں آجائے گا اور اسکی قیمت تقریباً چالیس سے پچاس روپے ہوگی۔

آبادیاتی امور کے ماہر آشیش بوس کے مطابق ہندوستان کی آبادی کی شرح میں ہر برس 1.7 فیصد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ہندوستان پوری دنیا میں آبادی میں چین کے بعد دوسرے مقام پر ہے۔ انکا کہنا ہے اس طرح کے ٹیکے سے آبادی روکنے میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد