کشمیری زعفران کو ایرانی زعفران کا سامنا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری نگر سے تیرہ کلو میٹر جنوب میں پامپور کا قصبہ واقع ہے جو زعفران کی کاشت کے لیے جانا جاتا ہے ۔ جلال الدین بٹ کے پاس یہاں دو ہیکٹر زمین ہے لیکن وہ گزشتہ تین سال سے اپنی پیداوار نہیں بیچ پائے ہے۔ انہیں تسلی بخش قیمت نہیں مل رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ایک زمانہ تھا کہ زعفران کا کاروبار عروج پر تھا، ہمیں کروڑوں روپے کی آمدنی ہوتی تھی لیکن اب مندا ہی مندا ہے‘۔ جلال الدین چاہتے ہیں کہ حکومت زعفران کی زمین کو خرید کر اس پر رہائشی بستیاں تعمیر کرے کیونکہ ان کے بقول اب یہ زمین ان کے لیے کسی کام کی نہیں۔ کشمیری زعفران کے لیے مندی کی وجہ یہ ہے کہ بھارت کی منڈیوں میں دیگر ممالک سے زعفران آنے لگا ہے۔ کشمیری زعفران کو ایک ایسے وقت پر بین الاقوامی مقابلے کا سامنا ہے جب یہ علاقہ خشک سالی سے متاثر ہے۔ بھارت کی منڈیوں میں ان دنوں ایرانی زعفران چھایا ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیری زعفران سب سے عمدہ ہے کیونکہ اس میں’کروسن‘ کی مقدار ایران اور ہسپانیہ کی زعفران سے کہیں زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود یہ ایرانی زعفران کی کم قیمت کی وجہ سے مقابلے نہیں کر پا رہا۔ ماہرین نے تجویز رکھی ہے کہ کشمیری زعفران کو ایک ’برانڈ‘ کےطور پر فروخت کیا جائے لیکن بعض مقامی بیوپاری کے کشمیری زعفران میں ملاوٹ کرنے یا پھر کشمیری زعفران کے نام پر ایرانی زعفران بیچنے سے ایسا مشکل ہو گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بعض بیوپاریوں کے یہاں پولیس نے چھاپے مارے تھے لیکن بعد میں کسی ایک کے خلاف بھی مقدمہ نہیں چلایا گیا ۔
سری نگر میں قائم شیرِ کشمیر زرعی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ ہسپانیہ کے طرز پر ایک ریگیولیٹری کونسل قائم کی جائے جو کشمیری زعفران کو اپنے برانڈ کے تحت فروخت کرے۔ موجودہ کونسل میں زعفران اگانے والوں اور زعفران خریدنے والوں کو شامل کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ ا سکی بدولت خریداروں کو میعاری زعفران دستیاب ہوگا اور اگانے والوں کو مارکٹ کی پریشانیوں سے نجات ملے گی۔ زعفران اگانے والوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پیداوار بڑھا کر ایرانی زعفران کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن انہیں شکایت ہے کہ حکومت اور زرعی ماہرین پیداوار بڑھانے میں مدد نہیں کر رہے ہیں۔ ایک زرعی سائنسدان ڈاکٹر ایف اے نحوی کے مطابق حالیہ برسوں میں زعفران کی پیداوار میں اکتیس فیصد کمی آئی ہے جبکہ کسانوں کہ کہنا ہے کہ نقصان اس سے دو گنا بلکہ کہیں کہیں تین گنا سے زیادہ ہے۔ اس کی اہم وجہ ’ کورم رؤٹ‘ ہے۔ اس بیماری کے نتیجے میں زعفران کا بیج ’ملٹی پلائی ‘ ہونےکے بجائے زمین کے اندر سڑ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری گزشتہ پانچ سال سے جاری خشک سالی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے یا پھر اس کے وجہ سے تیز ہوئی ہے۔ زعفران اگانے والوں کی انجمن کے صدر جی ایم پام پوری کہتے ہیں چند سال گزر گۓ ہیں کہ حکومت نے زعفران کے کھیتوں کو ’اسپرنکل اریگیشن ‘ فراہم کرانے کا وعدہ کیا تھا جس کے تحت کھیتوں میں مصنوعی بارش کرائی جاتی ہے لیکن اب تک ایک بھی کنواں کھودا نہیں گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق زعفران کے کھیتوں میں پانی پہنچانا نہایت ضروری ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں زعفران اگانے والے بھی بری حالت کے ذمہ دار ہیں ۔ ڈاکٹر نحوی کا کہنا ہے کہ زعفران اگانے والے لوگ سائنسدانوں کے مشوروں پر نہیں چلتے ہیں خواہ وہ ’پلانٹنگ سائکل‘ کے بارے میں ہوں، بوائی کے طریقہ کے بارے میں ہوں یاپھر دوا پاشی کے بارے میں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران اور ہسپانیہ میں کسان ہر چار سال کے بعد کھیتوں میں نئے بیج بوتے ہیں لیکن یہاں دس سال کے بعد ایسا کیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے یہاں بہت سے زعفران کاشت کرنے والوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کے کھیتوں میں کس نے اور کب بیج بوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں خشک سالی سے قبل یہ لوگ اپنے کھیتوں سے بغیر محنت کے لاکھوں اور کروڑوں روپے کی فصل کاٹتے تھے لیکن اب ہم ان سے کہہ رہے ہیں کہ اب ان کے پاس کاشتکاری سائنسی طریقہ اپنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ لیکن جی ایم پام پوری کا کہنا ہے کہ زعفران کے کاشتکار وں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے اور ان کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||