ممبئی، بچوں مشقت کا عالمی بازار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چمکیلے تار ، موتی اور زردوزی کے کپڑے ہر عورت پہننا چاہتی ہے ۔یہ کپڑے مہنگے بھی ہوتے ہیں لیکن آج کل چونکہ یہ فیشن میں ہیں اس لئے ہر پارٹی میں زری اور زردوزی کام کے کپڑے صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی پہنے ہوئے مل جائیں گے۔ بھارت میں کئی مشہور فیشن ڈیزائنر جیسے رتو بیری ، منیش ملہوترہ ، راکی ایس ، ستیا پال کے ڈیزائن کئے گئے کپڑوں کی پوری دنیا میں مانگ ہے اور یہ ڈیزائنر بھی اپنے کپڑوں پر زری کا کام کروانے کے لئے ان زری کے کارخانوں کے مالکان کو کپڑے دیتے ہیں۔ ممبئی زری کے کام کا عالمی بازار بن چکا ہے اور یہاں کے اکثر کارخانوں میں بچوں سے کام لیا جاتا ہے یہاں ہونے والا کام صرف بھارت کے کونے کونے میں ہی نہیں پوری دنیا میں برآمد کیا جاتا ہے۔ کروڑوں اربوں روپے کے اس کاروبار کے پیچھے کا سچ البتہ بہت کڑوا ہے۔ منافع کمانے کے لیے زری کے کارخانے کے یہ مالکان شمالی بھارت خصوصی طور پر بہار ، اتر پردیش اور بسا اوقات نیپال تک سے کم سن بچوں کو اپنے یہاں ملازم رکھتے ہیں ۔ان سے چودہ نہیں سولہ اور اکثر اٹھارہ گھنٹہ بھی کام لیا جاتا ہے۔ ممبئی میں گوونڈی ، مدنپورہ ، دھاراوی ایسے علاقہ ہیں جہاں زری کے کارخانے بڑی تعداد میں ہیں ۔ کارخانے کے بیشتر مالکان بہار اور یوپی سے تعلق رکھتے ہیں وہ اپنے گاؤں جا کر وہاں سے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ یہ کہہ کر لے آتے ہیں کہ وہ انہیں وہاں کام سکھا دیں گے اور ان کا لڑکا جو یہاں بیکار ہے کم از کم کما کر کچھ روپے والدین کو دے گا۔ بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیم ''پرتھم '' کے رابطہ کار مسٹر کشور بھامرے کا کہنا ہے کہ یوپی کے دیہاتوں میں غربت بہت ہے اور بہار میں خصوصی طور پر تعلیم کا نظام اتنا برا ہے کہ بچے اسکول نہیں جاتے ہیں اور یوں ہی آوارہ پھرتے ہیں اس لیے والدین بچوں کو ممبئی بھیج دیتے ہیں ۔شروع میں یہ مالکان دو ہزار یا تین ہزار روپے دے کر انہیں یہاں لے آتے ہیں اور پھر پلٹ کر نہیں دیکھتے کہ بچوں کا کیا حال ہے ۔
ممبئی میں ویسے ہی جگہ کی کمی ہے۔ یہ کارخانے بمشکل 10x10 کے کمرے ہوتے ہیں جس میں چارپائی ہوتی ہے اور اس میں پندرہ سے بیس لڑکے بیٹھ کر کام کرتے ہیں ۔ہوا کا گزر نہیں ہوتا۔ بچے مسلسل کام کرتے ہیں ۔انہیں نیند بھی برابر نہیں ملتی اور ایسے میں اگر بچہ کو نیند کا جھونکا آگیا تو اسے سگریٹ سے جلایا جاتا ہے۔ محمد ذاکر صرف آٹھ سال کا بچہ ہے ۔دھاراوی کے کارخانے میں کام کرتا ہے ۔اسے پورا ہفتہ کام کرنے کے بعد صرف دس روپے ملتے تھے۔ یہاں ایسے بچوں کو شاگرد کہتے ہیں جب یہ دو سال کام کر لیتے ہیں اور کام سیکھ جاتے ہیں تب انہیں کاریگر کہا جاتا ہے اور انہیں پھر ہفتہ میں پچاس سے اسی روپے ملتے ہیں لیکن یہ سب کام کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ پوری ممبئی کے ان کارخانوں میں کم از کم سولہ سے اٹھارہ ہزار کم سن بچے زری اور چمڑے کے کارخانوں میں کام کرتے ہیں۔ غربت کی وجہ سے والدین بچوں کو یہاں بھیج کر ان کی ذمہ داری سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔کچھ والدین کو فکر بھی ہوتی ہے تو بس اتنی کہ ان کا بیٹا کام سیکھ رہا ہے اور سال میں ایک مرتبہ انہیں کارخانہ مالک کچھ روپے بھیج دیتے ہیں۔ گوونڈی کے کارخانہ میں محمد افضل نامی دس سالہ بچے کو اتنی اذیت دی گئی تھی کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔ شیواجی نگر پولیس نے زری کارخانے کے مالک کو بعد میں گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق افضل کے بدن میں غذا کی کمی واقع ہوئی تھی۔ زری کے ایک کارخانہ کے مالک حسنین بچہ مزدوری کے سخت خلاف ہیں ان کا کہنا ہے کہ تھوڑے سے منافع کے لیے بچوں کے ذریعہ کام کرانے والوں نے اس شعبہ
افضل کی موت جیسے لرزہ خیز واقعہ کے بعد کئی سماجی تنظیموں نے حکومت کے ساتھ مل کر ایسے بچوں کو رہائی دلانے کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی ہے جس میں ان تنظیموں کے علاوہ پولیس بھی شامل ہے۔ چودہ ممبران پر مشتمل اس ٹاسک فورس نے حال ہی میں کئی کارخانوں پر چھاپہ مار کر بچوں کو رہائی دلائی اور سینٹرل ریلوے نے کرالہ سے پٹنہ جانے والی سپر فاسٹ ٹرین میں ایک پوری بوگی ریزرو کی جس میں ان بچوں کو سوار کرایا گیا ۔ کشور بھامرے کا کہنا ہے کہ قانون زیادہ سخت نہیں ہے اور کارخانہ مالکان کو فوراً ضمانت مل جاتی ہے اس کے علاوہ غربت بہت ہے اس لیے ’بچہ مزدوری‘ کا خاتمہ ممکن نہیں لیکن جب سے ٹاسک فورس بنی ہے تب سے کئی کارخانہ مالکان نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ان کے لیے اب بچوں کا استحصال ممکن نہیں اس لیے انہوں نے خود ان بچوں کو تنظیم کے حوالے کر دیا ہے لیکن چند سو بچوں کے واپس چلے جانے سے ہزاروں بچوں کا استحصال بند نہیں ہوتا۔ بند کمرے اور تاریک کمروں میں یہ روشنی کے لیے آج بھی ترس رہے ہیں ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||