افریقہ کے بے حس بچے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افریقہ کا تزکرہ زرائع ابلاغ میں تب ہی ہوتا ہے جب وھاں سے قحط سالی یا خانہ جنگی میں بہت زیادہ اموات کی خبر آجائے۔لیکن پھر ہم دو تین دن تذکرہ کرنے کے بعد اپنے پرانے خبری ایجنڈے پر لوٹ جاتے ہیں۔ عراق میں دو امریکیوں سمیت پندرہ افراد کی ہلاکت، سری نگر مظفر آباد بس سروس، ایران کی جوہری افزودگی شروع کرنے کی دھمکی، غربِ اردن میں اسرائیلی فوجی کاروائی۔ان موضوعات کے بعد اتنی جگہ ہی نہیں بچتی کہ اس پر غور ہوسکے کہ براعظم افریقہ میں آج کے دن بھی چالیس ملین لوگ فاقے اور بھک مری کا شکار ہیں۔ ایڈز کے ہر ایک سو میں سے ستر مریض افریقہ میں ہیں۔روزانہ چھ ہزار مریض مر رہے ہیں اور گیارہ ہزار نئے مریض بن رہے ہیں۔بوٹسوانا اور زمبیا جیسے ممالک کی چالیس فیصد آبادی اس مرض کی لپیٹ میں ہے۔ملیریا جس کا باقی دنیا میں علاج دس سے بیس روپے میں ہو جاتا ہے اس ملیریا سے افریقہ میں ماھانہ ڈیڑھ لاکھ بچے مر رہے ہیں۔ کسے فرصت کہ یہ معلوم کرتا پھرے کہ پچھلے چالیس برس میں بیس افریقی ممالک خانہ جنگی کے تجربے سے کیوں گزرے۔کانگو میں گذشتہ چھ برس میں کیسے خانہ جنگی اور امداد کی عدم فراہمی نے اڑتیس لاکھ افراد کو مارڈالا اور اسوقت بھی وھاں روزانہ ایک ہزار افراد کیوں مر رہے ہیں۔جبکہ اسی کانگو میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے سولہ ہزار سپاہی گھوم رہے ہیں۔اور دنیا کے کسی ایک علاقے میں اقوامِ متحدہ کی یہ سب سے بڑی فوج ہے۔ سوڈان کا علاقہ دارفور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور میڈیا کی توجہ کا مسلسل مرکز ہے لیکن یہ ہمیں کوئی نہیں بتا رھا کہ پچھلے چالیس برس کے دوران بیس افریقی ممالک کس سبب خانہ جنگی کے خونی تجربے سے گذرے اور اس آگ سے کن کن ترقی یافتہ ممالک اور کمپنیوں نے اپنے اپنے اقتصادی ہاتھ تاپے۔ کیا یہ بھی کوئی خبر نہیں کہ جس براعظم کا عالمی تجارت میں حصہ محض دو فیصد ہے اور امداد کے لئے ملنے والے ہر دوڈالر میں سے ایک ڈالر سود میں چلا جاتا ہے اس برِ اعظم پر ساڑھے تین سو بلین ڈالر کا قرضہ کس نے لادا۔حالانکہ اس براعظم میں سالانہ ڈیڑھ سو بلین ڈالر کرپشن اور بدانتظامی میں غتربود ہوجاتے ہیں۔ یقین نہیں آتا کہ یہ وہی افریقہ ہے جہاں انسان نے سب سے پہلے اوزار بنانے اور آگ کا استعمال سیکھا۔اور یہیں سے نسلِ انسانی دنیا کے باقی علاقوں میں پھیلی۔ اس ناطے افریقہ ہمارا جدِ امجد ہے لیکن ہم اس سے وہی سلوک کررہے ہیں جو بے حس بچے والدین سے کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||