BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 June, 2004, 16:01 GMT 21:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا آپ سپاہی کمل رام اور عبدالحفیظ کو جانتے ہیں

News image
آپ میں سے اکثر نے چکوال کے صوبیدار خدادادخان کا نام تو سنا ہوگا۔وہ بھی اس لئے کہ خدادادخان پہلا ہندوستانی سپاہی تھا جسے پہلی عالمگیرجنگ میں شجاعت کے زبردست مظاہرے کے اعتراف میں سلطنتِ برطانیہ کی طرف سے پہلا وکٹوریہ کراس ملا تھا۔لیکن کم لوگوں تک یہ بات پہنچائی گئی ہے کہ اس جنگ میں شریک برطانوی نوآبادیات کے ایک ملین سپاہیوں میں سے ایک لاکھ سے زائد نے برطانیہ سے وفاداری نبھاتے ہوۓ یورپ، عراق، فلسطین، گیلی پولی، چین، مغربی اور مشرقی افریقہ کے محازوں پر اپنی جان نچھاور کردی۔ان لڑنے والوں میں پائلٹ آفیسر لیفٹیننٹ اندرالال بھی شامل تھا جس نے یورپ کے محاز پر دشمن کے دس طیارے مار گرانے کے بدلے فلائنگ کراس حاصل کیا۔کیا آپ لیفٹیننٹ اندرالال کو جانتے ہیں ؟

اسی طرح دوسری عالمگیر جنگ میں برطانوی نوآبادیات کے جن تین ملین فوجیوں اور سویلینز نے حصہ لیا ان میں سے ڈھائی ملین کا تعلق ہندوستان سے تھا۔چاہے شمالی افریقہ میں جنرل رومیل کے طوفانی جرمن ٹینک دستوں کو تباہ کرنے کا فرض ہو یا برما کے محاز پر جاپانیوں کو پیچھے دھکیلنے کا مشن۔روم میں اتحادی افواج کے داخلے کو آسان بنانے کے لئے بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے کی ڈیوٹی ہو یا پھر رائل انڈین ایرفورس کی جانب سے دشمن کے عقب میں پیراشوٹ رجمنٹ اتارنے کی زمہ داری۔آپ نے جنرل پیٹن، فیلڈمارشل منٹگمری، جنرل آئزن ہاور اور جنرل میک آرتھر کے کارناموں پر ہالی وڈ کی فلمیں تو دیکھی ہوں گی لیکن وکٹوریہ کراس پانے والےنائک گیان سنگھ، سپاہی کمل رام،جمعدار عبدالحفیظ اور جارج کراس پانے والی خاتون فوجی نورعنائت خان کو کتنے لوگ جانتے ہیں۔فی الحال میں ان چھتیس ہزار ہندوستانی فوجیوں کا تزکرہ چھوڑتا ہوں جو دوسری عالمی جنگ میں کام آۓ۔

ساٹھ برس پہلے چھ جون کو ڈیڑھ لاکھ امریکی اور برطانوی فوجی یورپ کو نازیوں کے چنگل سے آزاد کرانے کے لئے فرانس میں نارمنڈی کے ساحل پر اترنا شروع ہوۓ۔لیکن کیا یہ ڈی ڈے ممکن تھا اگر اس دن اسی فی صد جرمن افواج کو سوویت فوجوں نے مشرقی محاز پر نہ الجھایا ہوا ہوتا۔

بیشتر مغربی مورخ گزشتہ ساٹھ برس سے بتا رہے ہیں کہ نازی جرمنی اور فاشسٹ جاپان سے آزادی چھیننے کی قیمت آٹھ لاکھ فرانسیسیوں، پانچ لاکھ امریکیوںاور تین لاکھ نوے ہزار برطانوی فوجیوں نے اپنے خون سے ادا کی۔لیکن سوویت یونین کے ان ڈھائی کروڑ سویلینز اور فوجیوں کے بارے میں فرانس برطانیہ اور امریکہ کے کتنے بچے جانتے ہیں جنہوں نے نازیوں کو دو ہزار کیلومیٹر تک برلن تک دھکیلنے کے سفر میں اپنی جانیں لٹا دیں۔لندن نازیوں کی مسلسل بمباری سے کھنڈر بن گیا تھا۔اس موضوع پر کئی کتابیں شائع ہوئیں اور کئی دستاویزی اور غیر دستاویزی فلمیں بن چکی ہیں لیکن روس اور یوکرائن کے وہ دو ہزار قصبے اور دیہات کیا ہوۓ جنہیں نازی بلڈوزروں نے برابر کر دیا۔یہ بات کتنی دفعہ سامنے آ سکی کہ دوسری عالمی جنگ میں ایک کروڑ چودہ لاکھ چینی جاپانی فاشزم کی مزاحمت کرتے ہوئے مارے گئے۔

ساٹھ برس میں پہلی مرتبہ جرمن چانسلر اور روسی صدر کو ڈی ڈے کی تقریبات میں مدعو کیا گیا۔لیکن ہندوستان کے وزیراعظم من موہن سنگھ، چینی وزیرِاعظم جیاؤ باؤ اور پاکستانی صدر پرویز مشرف کو اس تقریب کے بارے میں کتنا بتایا گیا ہے ؟

کیا غلام ملکوں کے فوجیوں کے بل پر لڑی جانے والی دونوں عالمی جنگیں صرف یورپ کی آزادی کی جنگیں تھیں ؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد