مغربی ملک ڈی ڈے منا رہے ہیں مگر . . . | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی ملک چھ جون کو ساٹھ سال قبل فرانس کے شہر نارمنڈی میں اتحادیوں کے داخل ہونے اور نازیوں کو شکست دینے کی یاد میں ’ڈی ڈے‘ منایا لیکن اس جنگ میں صرف مغربی ملکوں کے فوجی ہی شامل نہیں تھے ان علاقوں کے فوجیوں نے بھی حصہ لیا تھا جو اب بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش بن چکے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم میں مغربی اتحادیوں کے شانہ بہ شانہ حصہ لینے والے ان کم و بیش ڈھائی لاکھ ہندوستانیوں نے نازیوں اور نازی اتحادیوں کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا لیکن ان کے اس کردار کو نہ صرف برطانویوں نے نذر انداز کیا بلکہ خود ہندوستانی موّرخوں نے بھی خاطر خواہ توجہ کے لائق تصور نہیں کیا۔ مثلاً ہندوستانی ففتھ ڈویژن نے سوڈان میں اطالویوں کے خلاف اور پھر لیبیا میں جرمنوں کے خلاف لڑائی لڑی۔اس کے علاوہ ہندوستانی فوجیوں نے نہ صرف یورپ کے انتہائی اہم جنگی محاذوں میں اتحادی افواج کا ساتھ دیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں بھی ان کا کردار ناقابلِ فراموشی تھا۔ اس کے علاوہ رائل انڈین نیوی اور رائل انڈین ائیر فورس میں ہندوستانیوں کے کردار کی وجہ سے ان دونوں افواج کو انیس سو پینتالیس شاہی درجہ بھی دیا گیا۔ جنگ کے دوران چھتیس ہزار انڈین فوجی ہلاک اور چونسٹھ ہزار تین سو چون زخمی ہوئے، جب کہ اکتیس وکٹوریہ کراسوں کے علاوہ چار ہزار تمغے انڈین کے حصے میں آئے۔
ان میں سے ایک ناقابلِ فراموش داستان ففٹھ گورکھا رائفل کی سیکنڈ بٹالین کی دوسری پلاٹون کی لای کمانڈ کے حوالدار گج گھیل کی ہے جس نے انیس سو تینتالیس میں برما کے محاذ پر جاپانیوں کے خلاف جنگ کے دوران وکٹوریہ کراس حاصل کیا۔ تدم روڈ، برما کے محاذ پر گھیل نے انتہائی زخمی ہونے کے باوجود جاپانیوں کے خلاف اپنے دستے کی قیادت انتہائی بہادری سے کرتے ہوئے انتہائی بہادری کی ایک اعلیٰ تر مثاٹ قائم کی جس کی بنا پر اسے وکٹوریہ کراس دیا گیا۔ ایک گج گھیل ہی کیا ایسی بہت سی مثالیں انڈین فوجیوں نے قائم کیں۔ اس کے علاوہ انڈیا نے برطانوی افواج کے لیے تربیت کا انتہائی مناسب مقام اور خوردنی اشیا فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||