جوتشی، مُبصّر، پنڈت سب فیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب فروری میں یہ اعلان ہوا کہ عام انتخابات مقررہ مدت سے پہلے کرائے جا رہے ہیں تو یہ فیصلہ کرتے وقت بی جے پی کے جو اندازے تھے وہ تو خیر تھے ہی لیکن کوئی بھی دانشور، تبصرہ نگار صحافی اور سیاستدان ایسا نہیں تھا جس نے یہ کہا ہو کہ بی جے پی اس وقت عام انتخابات کروا کہ حد سے زیادہ خود اعتمادی اور سیاسی نابالغ پن کا ثبوت دے رہی ہے۔ خود کانگریس اور بائیں بازو کی بی جے پی مخالف جماعتوں کو یہ بات پسند نہیں آئی تھی کہ بی جے پی قبل از وقت انتخابات کر رہی ہے۔ ان سب جماعتوں کا کم و بیش یہی موقف تھا کہ دسمبر میں پانچ ریاستوں میں سے تین میں کامیابی کی فضا اور اقتصادی ترقی کی تیز شرح کو کیش کرانے کی سوچ نے بی جے پی کو قبل از وقت انتخابات کرانے پر مجبور کیا ہے۔ سٹے بازوں سے لے کر تجزیہ کاروں تک سب کی مجموئی رائے یہ تھی کہ یہ تو طے ہے کہ واجپئی ایک بار پھر مخلوط حکومت کے وزیر اعظم بنیں گے بس دیکھنا صرف یہ ہے کہ اس بار بی جے پی کی قیادت والا اتحاد پہلے کے مقابلے میں بیس سیٹیں زیادہ لے گا یا بیس سیٹیں کم۔ اور یہ بات اتنے یقین اور تواتر سے دہرائی جا رہی تھی کہ خود کانگریس سمیت بی جے پی مخالف سبھی جماعتوں نے اندرونِ خانہ اس تاثر کو تسلیم کر لیا تھا۔ لہذاٰ انتخابات کے شروع کے دو مرحلوں میں جو انتخابی مہم چلی اس میں بی جے پی کو چھوڑ کر باقی سب جماعتوں کے خاصی نیم دلانہ انداز میں انتخابی مہم چلائی۔ خود بی جے پی کا انداز یہ تھا کہ اس کے زیر قیادت اتحاد کو اس مرتبہ پانچ سو تینتالیس نشستوں میں سے دو سو نوّے سے لے کر تین سو کے درمیان اس بات کو مزید پکا کرنے کے لئے مارچ میں جو بجٹ پیش کیا گیا اس میں عام آدمی سے لے کر طبقہ امراء تک سب کو جتنی بھی رعایتیں دی گئیں ان کے پیچھے کوئی اقتصادی منطق ہو یا نہ ہو لیکن انتخابات جیتنے کا ٹارگٹ ضرور ذہن میں تھا۔ آج کے دن جتنے بھی رائے عامہ کے جائزے سامنے آئے ان میں سے کوئی بھی بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو دو سو پچاس سے کم نشستیں دینے پر تیار نہیں تھا۔ کانگریس کے بارے میں سب سے تجزیہ کاروں اور رائے عامہ کے سائنسی جائزے تیار کرنے والوں کا خیال تھا کہ اس کو اور اس کے اتحادیوں نے اگر بہت زیادہ تیر مار لیا تو ایک سو نوّے تک نشستیں مِل جائیں گی۔ پھر میڈیا اور اس کے پنڈتوں میں نہ جانے کس بنیاد پر یہ تاثر بھی جڑ پکڑ گیا کہ کوئی مقابلے میں نہیں ہے اس لئے عام آدمی کو ووٹنگ سے کوئی خاص دلچسپی نہیں چنانچہ یہ تاثر مضبوط ہونا شروع ہوا ہے کہ اس بار پولنگ میں ووٹوں کا تناسب گزشتہ عام انتخابات کے مقابلے میں سب سے کم ہوگا۔ حالانکہ اب تک ووٹنگ کا جو تناسب رہا ہے وہ اوسطاً پچپن فیصد ہے جو ماضی کے عام انتخابات کے لحاظ سے ٹھیک ہے۔ حتّیٰ کہ ٹیلی ویژن پر مستقل بلائے جانے والے جوتشی، تاش کے پتوں سے سیاسی مستقبل بتانے والے اور پیش گوئیاں کرنے والے یہ نہ بتا پائے کے تامل ناڈو، آندھرا پردیش اور دِلّی میں بی جے پی کا اس بری طرح سے صفایا ہو سکتا ہے۔ کسی کے تصور میں نہیں تھا کہ گجرات جسے بی جے پی اپنا نظریاتی قلعہ تصور کرتی تھی اس میں آدھو آدھ شگاف پڑ جائے گا۔ سوائے راجستھان، اڑیسہ اور مغربی بنگال کے ہر جگہ کے بارے میں ستاروں کا علم دھرا کا دھرا رہ گیا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ سوائے عام ووٹر کے ہر تجزیہ باز اور جوتشی ’فیل گُڈ‘ فیکٹر کا شکار ہو گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||