’بچے جلد بالغ ہو رہے ہیں‘: آپ کا مشاہدہ کیا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحقیقات کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں بلوغت کی عمر کم ہو رہی ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ لڑکیاں دس سال یا اس سے زیادہ کی عمر میں جبکہ لڑکے ساڑھے گیارہ سال کی عمر میں بالغ ہوتے ہیں۔لیکن اب لڑکیوں میں یہ عمر کم ہو کر سات سال ہو رہی ہے جبکہ لڑکوں میں دس سال۔ ماہرین ابھی تک اس بات کا تعین نہیں کر سکے کہ آیا سن بلوغت میں کمی تمام بچوں میں ہو رہی ہے یا یہ صرف کچھ بچوں تک محدود ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ ٹیلیوژن کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے بچوں میں ہارمونز کا توازن خراب ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ جلد بالغ ہو رہے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ جو بچی اپنے والد کے ساتھ زیادہ وقت گزارتی ہے وہ دیر سے بالغ ہوتی ہے جبکہ اپنے والد سے دور رہنے والی لڑکی جلد بالغ ہوتی ہے۔ ایک تیسرے خیال کے مطابق جلدی بلوغت کی وجہ بچوں میں بڑھتا ہواموٹاپا ہے۔ اس خیال کے حامیوں کے مطابق ایک تجربہ کے دوران کم غذائیت کی خوراک کھانے والے کچھ بچوں کو جب زیادہ کھاتے پیتےگھروں کے بچوں کے ساتھ رکھا گیا تو ان کی بلوغت میں تیزی آگئی۔ اس سلسلہ میں مزید تحقیق جاری ہے۔ آپ کا اس بارے میں کیا مشاہدہ ہے؟ آپ بھی اپنےارد گرد یہ تبدیلی دیکھتے ہیں؟ مندجہ بالا نظریات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ جلد بلوغت کے ان کے علاوہ کیا اسباب ہو سکتے ہیں؟جلد بلوغت کے کیا اثرات ہوں گے؟ آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||