اب بلوغت سات سال کی عمر میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سن بلوغت میں قدم رکھنے کے ساتھ انسانی جسم میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں بعض اوقات پریشان کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کی سن بلوغت کو پہنچنے کی عمر کم سے کم ہو رہی ہے اور بعض لڑکیاں سات سال کی عمر میں بھی بالغ ہو رہی ہیں۔ بچوں کے جلد بالغ ہونے کے بارے میں مختلف خیالات ظاہر کیے گئے ہیں لیکن ابھی اس کی وجہ معلوم نہیں۔ سویڈن کے ماہرین صورتحال کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے کر بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ لڑکیوں کی بالغ ہونے کی عمر دس سال یا اس سے زیادہ اور لڑکوں کے لیے ساڑھے گیارہ سال سمجھی جاتی ہے۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک میں یہ عمر گھٹ رہی ہے۔ انیس سو نوے میں لڑکیوں میں بلوغت کی ابتدائی علامات آٹھ سال کی عمر میں پیدا ہونا شروع ہوتی تھیں اور یہ عمل دو سال میں مکمل ہوتا ہے۔ اب ماہرین کے مطابق کچھ لڑکیاں سات سال کی عمر بالغ ہو جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عمر لڑکوں کے لیے بھی کم ہوئی ہے لیکن اتنی جتنی لڑکیوں کے معاملے میں۔ اس صورتحال کے بارے میں متنازعہ نظریات پیش کیے گئے ہیں جن میں بچوں کا زیادہ وقت ٹی وی کے آگے گزارنا شامل ہے۔ ماہرین نفسیات نے یہ بھی کہا ہے کہ جو لڑکیاں اپنے والد کے قریب ہوتی ہیں، ان لڑکیوں کے مقابلے میں جن کا والد سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا یا کم ملتی ہیں، دیر سے بالغ ہوتی ہیں۔ اب یورپ میں بارہ ٹیمیں اس عمل کو سمجھنے کے لیے ایک تین سالہ منصوبے پر کام کر رہی ہیں۔ یہ ٹیمیوں ماحولیاتی تبدیلیوں اور بچوں میں موٹاپے کے رجحان کا مطالعہ کریں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||