سونگھ کر ساتھی کی تلاش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ انسانوں میں مناسب جنسی ساتھی کو سونگھ کر تلاش کرنے کی صلاحیت بدرجۂ اتم موجود ہوتی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انسانی جسم میں موجود قدرتی بو یہ پتہ لگانے میں اہم رول ادا کرتی ہے کہ آیا ہمیں کسی کو ساتھی بنانے میں دلچسپی ہے یا نہیں؟ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خصوصاً ہم جنس پرست افراد دوسرے ہم جنس پرست کا سونگھ کر پتہ لگانے میں ماہر ہوتے ہیں۔ یہ تحقیق فلےڈیلفیا کے مونیل کیمیکل سینس سینٹر نے کی ہے جسے سائیکولوجیکل سائنس نامی جریدے میں شائع کیا جائے گا۔ سائنس دانوں کے مطابق ہم جنس پرست مرد اور عورتوں کو کو دیگر افراد کے مقابلے میں اپنے ساتھی میں مختلف قسم کی بو پسند ہوتی ہے۔ ایک دوسرے جائزے میں انسنی دماغ کے مطالعہ سے پتہ چلا کہ مرد کے پسینے میں پایا جانے والا کیمیاوی مادہ، خواتین اور ہم جنس پرست مردوں کے دماغ پر ایک سا اثر کرتا ہے۔ سائنسدانوں کی ٹیم نے تقریباً 82 ہم جنس پرستوں اور عام مردوں اور عورتوں سے کہا کہ وہ مختلف جنسی طرز کی زندگی گزارنے والے افراد کے پسینے کے چوبیس نمونے سونگھیں۔ اس سے پتہ چلا کہ ہم جنس مردوں کی پسند، ہم جنس پرست خواتین اور عام لوگوں سے بالکل مختلف تھی۔ ہم جنس پرست مردوں نے دیگر ہم جنس پرست مردوں کے پسینے کی بو کو پسند کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||