BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 November, 2003, 17:48 GMT 22:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایچ آئی وی نےگھر اجاڑ دیا

اے تمل
اے تمل

مجھے معلوم تھا کہ میرے شوہر کے دوسری عورتوں سے جنسی تعلقات ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ ایسا نہ کریں لیکن انہوں نے میری بات نہ سنی۔ میری ان سے محبت کی شادی ہوئی تھی، میرے والدین کی رضامندی کے بغیر۔ اب میں تنہا تھی اور کہیں نہ جاسکتی تھی۔

میں جب دوسری بار امید سے تھی، میں نے اپنے شوہر کو بتایا کہ میں ایچ آئی وی کے لئے اپنی جانچ کروانا چاہتی ہوں۔ اس لئے کہ اس سے قبل پانچ بار میرا حمل ضائع ہوچکا تھا۔ میرے شوہر نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔

لیکن میں انہیں بتائے بغیر اپنی جانچ کروانے کے لئے گئی۔ جس ڈاکٹر کے پاس میں گئی اس نے مجھے کوئی مشورہ نہیں دیا۔ اس نے صرف پوچھا کہ اگر ایچ آئی وی ثابت ہوا تو کیا کروگی؟ میں نے کہا کہ میں خودکشی کرلوں گی۔

مجھے ایچ آئی وی ثابت ہوا، لیکن میرے شوہر نے مجھے خودکشی کرنے سے روک دیا۔ ہمیں بہت اچھی طرح معلوم تھا کہ اسے بھی ایچ آئی وی ہے۔ میری جانچ کے تین ماہ بعد میرے شوہر بیمار ہوگئے۔ میں تین ماہ سے امید سے تھی، اس لئے اسقاط حمل نہیں کراسکی۔

 ڈاکٹر نے کوئی مشورہ نہیں دیا۔ اس نے صرف پوچھا کہ اگر ایچ آئی وی ثابت ہوا تو کیا کروگی؟ میں نے کہا کہ میں خودکشی کرلوں گی۔

اے تمل، تیروچی، بھارت

میرے شوہر شدید ذہنی ڈیپریشن کا شکار ہوگئے۔ ہم لوگ بہت سے ’جعلی‘ ڈاکٹروں کے پاس گئے جنہوں نے ہم سے خوب پیسے کمائے۔ میں (ریاست تامل ناڈو کے شہر) تروچی کے ہپستال میں گئی لیکن یہ ہسپتال بھی موقع پرست لوگوں کا ہی علاج کررہا تھا۔ انہوں نے ہماری مدد نہ کی۔

میری بچی کی پیدائش ہوئی۔ اور گیارہ دنوں کے بعد میرے شوہر چل بسے۔ چالیس دن کے بعد بچی بھی فوت ہوگئی۔ بچی میں بھی پیدائشی طور پر ایچ آئی وی ثابت ہوا تھا۔ وہ صحت مند بچی تھی لیکن میرے لئے بہت مشکل تھا۔ میں اسے دودھ نہیں پلاسکتی تھی۔

چونکہ میری محبت کی شادی ہوئی تھی۔ اس لئے میں اپنے رشتہ داروں سے حمایت بھی حاصل نہیں کرسکتی تھی۔

میں بہت عرصے تک مردوں پر غصہ تھی۔ لیکن میں اپنے شوہر سے ناراض نہیں ہوں۔ صرف اس وقت جب میں ناخوش ہوں انہیں کوستی ہوں۔ لیکن جب بھی میں اپنی مری ہوئی بچی کی تصویر دیکھتی ہوں تو میرا غصہ واپس آجاتا ہے۔

نوٹ: اے تمل ہندوستان کی ریاست تامل ناڈو کے شہر تریچی میں پیوپل پازیٹِو نامی فلاحی ادارے کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ گفتگو بی بی سی ہندی سروِس کی صحافی ونیتا دویویدی سے گفتگو کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد