BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 November, 2003, 12:49 GMT 17:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محبت اور دماغ
محبت کرنےوالے کے دماغوں پر تحقیق
محبت کرنےوالے کے دماغوں پر تحقیق

محبت کرنے والے مردوں اور عورتوں کے دماغوں میں کیا تبدیلیاں یا کیا عمل رونما ہوتے ہیں، سائنسدانوں نے اس کا پتا لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس تحقیق میں کہ محبت میں انسانی دماغ کا کیا عمل ہوتا ہے، سائنسدانوں نے محبت کی بساط پر قدم رکھنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کے دماغوں کا تجزیہ کیا۔

امریکہ میں اعصابی سائنس پر تحقیق کرنےوالی سوسائٹی نے اپنی ایک تازہ ترین اشاعت میں اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے محبت کے دوران انسان کے دماغ کے ان حصوں میں تحریک کا مشاہدہ کیا جن کا تعلق قوت اور شادمانی سے ہے۔

عورتوں کے دماغوں کے جو عکس لیے گئے ان میں جذباتی ردِعمل دیکھنے میں آیا جبکہ مردوں کے دماغوں کے جو عکس لئے گئے ان میں جو ردعمل دیکھا گیا اس کا تعلق جنسی جبلت سے تھا۔

ماہرین نے دماغوں کے عکس حاصل کرنے کے لیے فنکشنل میگنیٹک ریزوننس ایمیجنگ (ایف ایم آر آئی) جیسی جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ اس مشین سے تقریباً ستر خواتین اور مردوں کے دماغ کے عکس لیے گئے۔

عکس حاصل کرنے کے عمل کے دوران ان خواتین اور مردوں کو ان لوگوں کی تصاویر دکھائی گئیں جن سے یا تو یہ محبت کرتے تھے یا جن کو یہ پسند کرتے تھے۔

اس دوران ان لوگوں سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ ان تصاویر سے پیدا ہونے والے جذباتی رد عمل کو ظاہر نہ کریں۔

ماہرین نے کیمائی مادے ’ڈپامین‘ کا بھی پتا لگایا جو انسانی دماغ میں اطمینان اور مسرت کی کیفیت پیدا کرتاہے۔

ماہرین نے دماغ کے دوسرے حصوں میں بھی عمل کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان جسقدر جذباتی یا رومینٹک ہوتا ہے دماغ کے متعلقہ حصوں میں تحریک اُسی قدر بڑھ جاتی ہے۔ تاہم یہ عمل عورتوں اور مردوں کے دماغوں میں بااعتبارِ جنس مختلف ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ہیلن فشر جو کہ امریکی ریاست نیو جرسی کی رٹگرز یونیورسٹی میں تدریس کے شعبہ سے منسلک ہیں اس تحقیق کی سربراہی کر رہے تھے۔ ڈاکٹر ہیلن فشر نے کہا ہے کہ جذبات کا تعلق دماغ کے بنیادی حصوں سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ دماغ ہی اشتہا کی کیفیت پیدا کرتا ہے جو انسانی کو اپنے مخالف سے جسمانی تعلقات استوار کرنے پر اکساتی ہے۔

ماہرین انسانی دماغ پر مزید تحقیق کررہے ہیں اور اب وہ اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ اُن لوگوں کے دماغوں میں کیا تبدیلی رونما ہوتی ہے کہ جن کو اُن کے ساتھی چھوڑ دیتے ہیں یا جن کو محبت میں ناکامی ہوتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد