| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’شہوت نیکی ہے، بدی نہیں‘
برطانیہ کے ایک مشہور فلسفی کا کہنا ہے کہ جنسی شہوت کو غلط طور پر بدی قرار دیا گیا تھا اور یہ کہ انسانیت میں نئی روح پھونکنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی حیثیت کو بحال کیا جائے۔ برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق کیمبرج یونیورسیٹی کے پروفیسر سائمن بلیک برن کا کہنا ہے کہ صدیوں سے غلط طور پر اس جبلت کی نفی کی جاتی رہی ہے۔ ان کی حالیہ مہم آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے اس منصوبہ کا حصہ ہے جس کا مقصد انسان کی ان سات جبلتوں کو عصر حاضر کے تناظر میں پرکھنا ہے جنہیں صدیوں سے سات عظیم گناہوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ ان برائیوں یا گناہوں کی فہرست چھٹی صدی عیسوی میں پوپ گریگوری دا گریٹ نے تیار کی تھی۔ ان میں شہوت، حسد، بسیارخوری، کاہلی، غرور اور لالچ شامل ہیں۔ آکسفرڈ یونیورسٹی پریس ان میں سے ہر ایک موضوع پر ایک کتاب لکھوا رہی ہے۔ شہوت پر قابو پانا رپورٹ کے مطابق پروفیسر بلیک برن کا مقصد شہوت کو خود ساختہ نیکوکاروں کی دشنام طرازیوں سے بچا کر بدی کے درجہ سے نیکی کے درجہ پر لانا ہے۔ اخبار کے مطابق پروفیسر بلیک برن شہوت کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں: ’شہوت جنسی عمل کا ایک زبردست جذبہ ہے اور اس سے حاصل ہونے والا مزہ ہی ہر چیز پر حاوی ہے۔‘ مذکورہ فلسفی کا کہنا ہے کہ اگر اس جذبہ کا جواب بھی ہم پلہ ہو تو پھر شہوت کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے، بالخصوص جب کوئی نظریہ یا عقیدہ اس کی آزادی کی راہ میں حائل نہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ پیاس کو برا نہیں کہا جاتا حالانکہ اس میں بھی حد سے گزرنے اور بعض اوقات مدہوش ہوجانے کا احتمال ہوتا ہے۔ اسی طرح شہوت کو بھی محض اس امکان پر برا نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ بے قابو ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں پروفیسر بلیک برن کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ’اصل بات یہ ہے کہ جو بھی چیز مزہ دے یہی مزہ اس کے حق میں دلیل ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ہم حد میں رہتے ہوئے اس کا فائدہ کیسے اٹھاتے ہیں۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||