BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 May, 2005, 04:21 GMT 09:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آکوپنکچر بھی اثر رکھتا ہے‘
آکوپنکچر
آکوپنکچر کا علاج مغرب میں عام ہوتا جا رہا ہے
برطانیہ میں سائنسدانوں نے ایک تحقیق کے بعد پہلی مرتبہ کہا ہے کہ چینیوں کا قدیم طبی طریقہ آکوپنکچر بھی ایک طرح سے اپنا اثر رکھتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن اور ساؤتھیمپٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آکوپنکچر کے دوران دماغ کا ایک حصہ خود بخود حرکت میں آ جاتا ہے اور اس کی ہی وجہ سے درد میں کمی واقعہ ہوتی ہے۔

گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے مغرب میں آکوپنکچر کے طریقہ علاج کو جس میں جسم کے حصوں میں سوئیاں چبھائی جاتی ہے، بہت پذیرائی مل رہی ہے۔ خاص کر درد کو کم کرنے میں اس طریقہ علاج کو کافی موثر مانا جاتا ہے۔

تاہم کئی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ اس لیے موثر لگتا ہے کہ مریض توقع کرتا ہے کہ یہ کام کرے گا۔

برطانوی سائنسدانوں کی تحقیق جریدے نیورو امیج میں شائع ہوئی ہے۔

سائنسدانوں نے آکوپنکچر کے ذریعے گٹھیا کا علاج کرانے والے مریضوں کا سکین کرنے کے لیے پوزیٹرون ایمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔

برطانوی آکوپنکچر ایسوسی ایشن کونسل کی سارہ ولیمز نے کہا ہے کہ ’یہ آکوپنکچر کے لیے بڑی مثبت خبر ہے اور یہ نئی تحقیق اُس بات کو واضح کرتی ہے جو آکوپنکچر کرنے والے بڑی عرصے سے جانتے ہیں۔ وہ یہ کہ آکوپنکچر کا طریقہ علاج اپنا کام کرتا ہے اور اس کا اثر ’پلیسبو ایفیکٹ‘ سے کہیں زیادہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد