’آکوپنکچر بھی اثر رکھتا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں سائنسدانوں نے ایک تحقیق کے بعد پہلی مرتبہ کہا ہے کہ چینیوں کا قدیم طبی طریقہ آکوپنکچر بھی ایک طرح سے اپنا اثر رکھتا ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن اور ساؤتھیمپٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آکوپنکچر کے دوران دماغ کا ایک حصہ خود بخود حرکت میں آ جاتا ہے اور اس کی ہی وجہ سے درد میں کمی واقعہ ہوتی ہے۔ گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے مغرب میں آکوپنکچر کے طریقہ علاج کو جس میں جسم کے حصوں میں سوئیاں چبھائی جاتی ہے، بہت پذیرائی مل رہی ہے۔ خاص کر درد کو کم کرنے میں اس طریقہ علاج کو کافی موثر مانا جاتا ہے۔ تاہم کئی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ اس لیے موثر لگتا ہے کہ مریض توقع کرتا ہے کہ یہ کام کرے گا۔ برطانوی سائنسدانوں کی تحقیق جریدے نیورو امیج میں شائع ہوئی ہے۔ سائنسدانوں نے آکوپنکچر کے ذریعے گٹھیا کا علاج کرانے والے مریضوں کا سکین کرنے کے لیے پوزیٹرون ایمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ برطانوی آکوپنکچر ایسوسی ایشن کونسل کی سارہ ولیمز نے کہا ہے کہ ’یہ آکوپنکچر کے لیے بڑی مثبت خبر ہے اور یہ نئی تحقیق اُس بات کو واضح کرتی ہے جو آکوپنکچر کرنے والے بڑی عرصے سے جانتے ہیں۔ وہ یہ کہ آکوپنکچر کا طریقہ علاج اپنا کام کرتا ہے اور اس کا اثر ’پلیسبو ایفیکٹ‘ سے کہیں زیادہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||