انجائینا کا علاج، تھر تھراتی پتلون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں انجائنا کے کچھ مریضوں کا علاج ایک انوکھے انداز سے کیا جا رہا ہے ۔اس طریقہ علاج کو انہانسڈ اکسٹرنل کاونٹر پلسیشن یا ای ای سی پی کہا جاتا ہے اور اس میں ’تھر تھراتی ہوئی پتلون’ استعمال کی جاتی ہے۔ انجائنا کے درد کی وجہ شریانوں کا آدھا یا پورا بند ہوجانا ہے، جس کے باعث دل کو آکسیجن اور غذائیت نہیں ملتی۔ انجائنا کے روائتی علاج میں دوا اور سرجری کے ذریعے دل کی طرف خون کو بڑھانے میں مدد دی جاتی ہے جس سے دوران خون نارمل ہو جاتا ہے۔ اس نۓ علاج میں بلڈ پریشر ناپنے والے آلے جیسی ہوا بھرنے والی پٹیاں مریض کی پنڈلیڑ ران اور کولھوں پر رکھ دی جاتی ہیں اور مریض کے دل کی طرف خون کو دھکیلا جاتا ہے۔ یہ پٹیاں ہوا بھرنے اور نکالنے سے تھر تھراتی ہیں اور خون کو دل کی طرف دھکیلتی ہیں ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جن مریضوں کو روائتی دوا سے آرام نہیں ملتا ان کے لئے کپکپاتی پتلون مفید ثابت ہو گی۔ یہ علاج سات ہفتوں پر مشتمل ہے اور مریضوں کو ہر ہفتے پانچ بار ایک گھنٹہ کے لیے اس ’پتلون’ کو پہننا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر کرس موسلی جو ایک ماہر امراض قلب ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلے اٹھارہ مہینوں میں تقریباً تیس مریضوں کا علاج کیا ہے اور ان میں سے زیادہ تر کو فائدہ پہنچا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||