BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 January, 2005, 03:51 GMT 08:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا عقیدہ تکالیف کو کم کرتا ہے
دکھ تکلیف برداشت کرنے کا تجربہ
جذباتی لمحات میں دماغ کس طرح کام کرتا ہے۔
برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس داں ایک تجربہ کر رہے ہیں جس میں یہ جاننے کے لئے رضاکار ایزائیں برداشت کریں گے کہ آیا ان کا عقیدہ ان کی تکلیف کو کم کرتا ہے یا نہیں۔

اس دو سال کے جائزے میں دونوں مذاہب کے ماننے والے اور کچھ سیکولر لوگ خود کو جلا کر یہ دیکھیں گےکہ کیا وہ دوسروں سے زیادہ تکلیف برداشت کر سکتے ہیں۔

ایزائیں دئیے جانے کے دوران ان رضاکاروں کومذہبی نشانات دکھائے جائیں گے تحقیق کرنے والوں کا خیال ہے کہ اس جائزے سے عقیدے کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے ۔

تجربے کے دوران لوگوں کو مرچوں والے جیل دئے جائیں گے اور ان کے ہاتھوں پر گرم پیڈ رکھیں جائیں گے اس دوران اسکین کے زریعے دماغ ، دل اور جسمانی ساخت کے ماہرین یہ جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ لوگوں میں کس طرح کا ردِ عمل ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں جذباتی لمحات میں دماغ کس طرح کام کرتا ہے اور خاص طور پر اس وقت جب انسان ہوش میں ہوتا ہے۔

رائل کالج آف سائیکلوجی کے ترجمان ڈاکٹر الیسن گرے کا کہنا ہے کہ تکلیف برداشت کرنے کا تجربہ حیاتیاتی ساخت پرمنحصر کرتا ہے مثلا جسم میں درد کے احساس کو کم کرنے کے قدرتی مادے کا بننا اور یہ کہ کتنے خلئیوں کو نقصان پہنچا ہے ۔

مذہبی افعال کے دوران جسم میں انڈورفن کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور تکلیف برداشت کرنے کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد