تیرہ ہزار پاؤنڈ کا ورچوئل جزیرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کمپیوٹر گیمز کے ایک بائیس سالہ شوقین نے تیرہ ہزار پانچ سو پاؤنڈ کے عوض ایک ایسا جزیرہ خریدا ہے جس کا وجود صرف کمپیوٹر پر ہے۔ کمپیوٹر کی دنیا میں ڈیتھی فائر کے نام سے پہچانے جانے والے اس آسٹریلوی باشندے نے اس جزیرے کو ایک آن لائن نیلامی میں خریدا۔ یہ جزیرہ ایک گیم پراجیکٹ’اینٹروپیا‘ میں موجود ہے۔ اس کمپیوٹر گیم میں ہزاروں کھلاڑی ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ڈیتھی فائر اس ورچوئل جزیرے پر شکار کرنے اور سونے کی تلاش میں کان کنی کرنے کے لیے آنے والے افراد سے ٹیکس وصولی کی صورت میں رقم کمائے گا۔ ڈیتھی فائر نےاس ورچوئل جزیرے کے پلاٹوں کی انٹرنیٹ پر فروخت بھی شروع کر دی ہے۔شائقین اس جزیرے پر پلاٹ خرید کر ورچوئل گھر بنا سکتے ہیں۔ اس جزیرے کے مالک کا کہنا ہے کہ’ اس قسم کی سرمایہ کاری آن لائن گیمز میں ایک نیا رواج لا سکتی ہے‘۔ ’اینٹروپیا‘ میں کھلاڑیوں کو اصل زر کے بدلے ورچوئل اشیاء کی خریدوفروخت کی اجازت ہے جبکہ دوسرے گیم پراجیکٹس کے شائقین ’ای بے‘ جیسی ویب سائٹوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس برس کے اوائل میں ماہرین نے ایک تحقیق کے بعد کہا تھا کہ آن لائن گیمز کے کاروبار کے نتیجے میں ہونے والی معاشی نمو افریقی ملک نمیبیا کی سالانہ پیداوار کے برابر ہے۔ گزشتہ دس برس کے دوران آن لائن ورچوئل گیمز کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور ہزاروں کھلاڑی اس ماورائی دنیا میں دوہری زندگی گزار رہے ہیں۔ پراجیکٹ ’اینٹروپیا‘ پر دو لاکھ لوگ بطور کھلاڑی رجسٹرڈ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||