BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بائی اوپسی کی جگہ خون کا ٹیسٹ
خون کے ٹیسٹ سے مریضوں کو خاصی سہولت حاصل ہو جائے گی
خون کے ٹیسٹ سے مریضوں کو خاصی سہولت حاصل ہو جائے گی
سائنسدانوں نے جگر کے امراض کی تشخص خون کے ایک سادہ سے ٹیسٹ کے ذریعے کرنے کا طریقہ دریافت کیا ہے۔

جگر کے مرض کی تشخیص کے لیے ڈاکٹروں کو مریض کے جگر کے ’ٹشوز‘
حاصل کرنا پڑتے ہیں اور اس کے لیے انہیں ایک چھوٹی سی سٹیل کی ایک سوئی جگر کے اندر پیوست کرنا پڑتی اور مریض کو اس کے لیے بے ہوش کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کو بائی اوپسی کہا جاتا ہے۔

لیکن ساوتھ ہیمٹن یونیورسٹی کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نےجس کی سربراہی پرورفیسر ولیم روزن برگ کر رہے تھے دعوی کیا ہے کہ خون کے ٹیسٹ کے ذریعے بھی جگر کے مرض کی تشخیص کی جا سکتی ہے۔

اس سلسلے میں تحقیق کرنے والے ڈاکٹروں نے یورپ بھر سے جگر کے مرض میں مبتلا ایک ہزار کے قریب مریضوں کا معائنہ کیا۔

پروفیسر روزن برگ نے کہا ہے کہ اگلے سال تک محمکۂ صحت کو یہ خون کا ٹیسٹ کرانے کی سہولت حاصل ہو جائے گی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اعشاریہ پانچ فیصہ لوگ جگر کی بیماریوں میں مبتلا ہیں جن میں ہیپیٹاٹس سی بھی شامل ہے۔

ترقی یافتہ دنیا میں جگر کے امراض قدرتی اموات کی نویوں بڑی وجہ بتائی جاتی ہے۔

جگر کے امراض اکثر ’فائبروسس‘ بن جاتا ہے جس میں صحت مند ٹشو بننا بند ہو جاتے ہیں اور ابھی تک اس کی تشخیص کے لیے بائی اوسپی واحد طریقہ ہے۔

آلودگیمستقبل کا دھندلا افق
آلودگی کے خاتمے کے لئے ’پیسہ‘ کہاں سے آئے گا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد