بائی اوپسی کی جگہ خون کا ٹیسٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں نے جگر کے امراض کی تشخص خون کے ایک سادہ سے ٹیسٹ کے ذریعے کرنے کا طریقہ دریافت کیا ہے۔ جگر کے مرض کی تشخیص کے لیے ڈاکٹروں کو مریض کے جگر کے ’ٹشوز‘ لیکن ساوتھ ہیمٹن یونیورسٹی کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نےجس کی سربراہی پرورفیسر ولیم روزن برگ کر رہے تھے دعوی کیا ہے کہ خون کے ٹیسٹ کے ذریعے بھی جگر کے مرض کی تشخیص کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں تحقیق کرنے والے ڈاکٹروں نے یورپ بھر سے جگر کے مرض میں مبتلا ایک ہزار کے قریب مریضوں کا معائنہ کیا۔ پروفیسر روزن برگ نے کہا ہے کہ اگلے سال تک محمکۂ صحت کو یہ خون کا ٹیسٹ کرانے کی سہولت حاصل ہو جائے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اعشاریہ پانچ فیصہ لوگ جگر کی بیماریوں میں مبتلا ہیں جن میں ہیپیٹاٹس سی بھی شامل ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں جگر کے امراض قدرتی اموات کی نویوں بڑی وجہ بتائی جاتی ہے۔ جگر کے امراض اکثر ’فائبروسس‘ بن جاتا ہے جس میں صحت مند ٹشو بننا بند ہو جاتے ہیں اور ابھی تک اس کی تشخیص کے لیے بائی اوسپی واحد طریقہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||