’وارم‘ جیسے آلے سے علاج؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدان مریضوں کے جسم کے اندرونی حصوں کے معائنہ کا ایک نیا طریقہ وضع کرنے پر کام کر رہے ہیں جس میں ایک ایسا آلہ تیار کیا جائے گا جو کیچوے کی حرکت سے مماثلت رکھے گا۔ اینڈوسکوپی نامی طریقہ کار میں ایک نالی جسم کے اندر داخل کی جاتی ہے جو بعض اوقات کافی تکلیف دہ تجربہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ تاہم پیزا میں سکؤلا سپیریوری سانتانا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ساحلوں پر پائے جانے والے ’ریگ ورم یا پیڈل ورم‘ نامی مخصوص کیچووں کی طرح حرکت کرنے والا آلہ مریضوں کے جسم کے اندرونی حصوں کے آرام دہ معائنے کا نمونہ پیش کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان کے طریقہ کار میں ’آلہِ معائنہ‘ جسم میں خود آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے نہ کہ اسے جسم میں گھسا کر آگے بڑھایا جائے۔ ماہرین کی ٹیم نے اس ضمن میں ایسا پہلا ’آلہ‘ تیار کیا ہے جسے بائیولاچ فرسٹ کا نام دیا گیا جو جسم میں داخل ہونے کے بعد پیڈل ورم یا ریگ ورم کی طرح حرکت کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ عام طور پر مچھلی پکڑنے والے کانٹے پر استعمال ہونے والے یہ کیجوے گیلی جگہ پر ٹھوس اور نیم ٹھوس مادوں میں حرکت کرتے ہیں اور جسم کی اندرونی ساخت بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔ سائنسدانوں کا تیار کردہ پہلا آلہ ایک ایسے ہی عام کیچوے یا کیڑے کی حرکت پر مشتمل ہے جس کی ریڑھ کی ہڈی لچکدار ہوتی ہے اور حرکت کے لیے پیڈل نما پیر ہوتے ہیں۔ ماہرین اس آلے کی جدید قسم پر کام کر رہے ہیں جس میں ریڑھ کی ہڈی اور پیڈل دونوں ہی حرکت کریں گے۔ اس مرحلے کے بعد اس آلے میں موٹر نصب کرنے کا کام کیا جائے گا۔ سائنسدانوں کی یہ ٹیم ماہرینِ حیاتیات کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ کیچووں کی حرکت کا درست مطالعہ کر سکیں۔ اس نئے طریقِ کار پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ پالو ڈاریو کا کہنا ہے کہ ان تمام کوششوں کا مقصد مروجہ اینڈوسکوپی کا متبادل تیار کرنا ہے جس میں کم لچکدار ٹیوب کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||