| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بانجھ پن کا ناقص علاج
ڈاکٹروں نے بانجھ پن کی تشخیص اور تدارک کے لیے ناقص ٹیسٹ اورعلاج کے بڑھتے ہوئے رحجان کے بارے میں شدید اضطراب کا اظہار کیا ہے۔ کچھ معالجوں کا خیال ہے کہ انسان کا مدافعاتی نظام میں پیدا ہونے والی پیچیدگیئوں کی وجہ سے تشخیص کے لیے اسکرینگ ٹیسٹ کروانا پڑتے ہیں۔ تاہم برطانیہ کے رائل کالج آف ابسٹرٹیشن اینڈ گائناکالوجسٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹروں کو صرف مستند طریقے علاج پر انحصار کرنا چاہیے۔ اس رپورٹ میں انٹر نیٹ پر مہیا کی جانے والی معلومات اور طریقے علاج کے بارے میں دئے جانے والے مشوروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوسطً سات میں سے ایک جوڑے میں بانجھ پن یا استقات حمل کی وجہ موروثی بیماریاں، ہارمون سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں، خون کا شریانوں میں جمنا اور مختلف قسم کی جنسی بیماریوں ہوتی ہیں۔ ان وجوہات کے علاوہ بیشتر افراد میں بعض اوقات بانجھ پن کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ کچھ معالجون کا خیا ل ہے کہ انسانی کے مدافعاتی نظام میں گڑ بڑ کی وجہ سے بھی بانجھ پن پیدا ہو جاتا ہے۔ اس مفروضے کی بنیاد پر انہوں نے مختلف قسم کے اسکرینگ ٹیسٹ وضح کر لیے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ٹیسٹوں کی تشہیر انٹر نیٹ کے ذریعے کی جارہی ہے اور بانجھ پن کا شکار خواتین کو یہ ٹیسٹ کروانے کے مشورے دئے جارہے ہیں۔ برطانیہ کی سوسائٹی برائے فرٹیلٹی کی پروفیسر علیسن مرڈوک نے اس رپورٹ کو سرہاتے ہوئے کہا کہ بہت سے بانجھ پن کا شکار جوڑے انتہائی مایوسی کاشکار ہوتے ہیں اور وہ ہر قسم کا علاج کروانے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ ان جڑوں کو صرف آزمودہ کار طریقے ہی تجویز کئے جانے چاہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |