| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسقاط حمل: پیشن گوئی ممکن ہے
ایک حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ خواتین کے ایک خاص کیمیاوی ٹیسٹ کے ذریعے اسقاط حمل کا امکان جانچا جاسکتا ہے۔ آسٹریلوی ماہرین کے مطابق اسقاط حمل ہونے سے کئی ہفتے پہلے ہی عورتوں کے جسم میں ایک کیمیاوی مادے ایم آئی سی ون کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ سائنسی جریدے دی لینسٹ کے مطابق خواتین کے جسم سے خون کے نمونے لئے جاتے ہیں جن کا کیمیاوی تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے خون میں ایم آئی سی ون کتنی مقدار میں ہے۔ دنیا بھر میں ہرسال لاکھوں خواتین اسقاط حمل کا شکار ہوتی ہیں لیکن اس کی وجوہات اب تک نامعلوم رہی ہیں۔ اکثر یہ مسائل نسل دو نسل منتقل ہوتے ہیں۔ مورثی طور پر کئی خواتین کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ حمل ٹھہرنے کے بعد بچے کی نشوونما ہوسکے۔ تاہم دوسرے بچے کی دفعہ عموماً ایسا نہیں ہوتا۔ کئی بار مسئلے کا سبب جنین کی اپنی موروثی کمزوری ہوتی ہے۔ آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق ماہرین نے اپنی تحقیق سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ کئی مرتبہ عورت کا اپنا مدافعتی نظام جنین کو نہیں پہچانتا بلکہ اس سے ایک ’بیرونی دشمن‘ کی طرح کا سلوک کرتے ہوئے اس کا دفاع کرنے کے بجائے اسے رد کردیتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب یہ جاننے کی کوشش کی جارہی کہ کیا اسقاط حمل کا زیادہ امکان رکھنے والی خواتین کے جسم میں ایم آئی سی ون مادے کی مقدار بڑھا کر اسقاط حمل کا امکان کم کیا جاسکتا ہے۔ یونیورسٹی کے ایک ماہر ایسوسی ایٹ پروفیسر یواین ویلیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج اخذ کرتے ہوئے نہایت احتیاط سے کام لینا ہوگا کیونکہ یہ نتائج اتنے واضح نہیں ہیں جتنا انہیں سمجھا جارہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر ان نتائج کی تصدیق ہوگئی تو پھر اسقاط حمل کی پیشن گوئی اور پھر اس کا علاج ممکن ہوسکے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||