ہندوستانی مسلمان، پسماندگی کا بھنور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلمانوں کی معاشرتی، اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی پر سچر کمیٹی کی رپورٹ اب پارلمینٹ میں پیش کی جا رہی ہے۔ سچر کمیٹی نے ملک کے مسلمانوں کی جو حالت بتائی ہے وہ کوئی نیا انکشاف نہیں ہے، یہ حقائق کسی نہ کسی شکل میں پہلے سے عیاں تھے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ سچر کمیٹی مسلمانوں کی صورتحال کا تجزیہ کرنے کی پہلی مفصل اور منظم کوشش ہے۔ اس کمیٹی کی تفصیلات سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ مسلمانوں ملک کے نئے دلت ہیں۔ وہ تعلیم میں، تجارت میں، ملازمت میں، صحت میں غرض زندگی کے ہر شعبے میں ملک کی دوسری برادری سے پیچھے ہیں۔ سچر کمیٹی نے نہ صرف ان کی پسماندگی کا تجزیہ کیا ہے بلکہ اپنی رپورٹ کے ایک باب میں اس نے مسلمانوں کے سب سے پسماندہ طبقے کو رزرویشن دینے کی بھی سفارش کی ہے۔
مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں رزرویشن دینے کی کئی حلقوں کی طرف سے مخالفت کے جائے گی۔ سچر کمیٹی نے جب اپنی رپورٹ کے سلسلے میں فوج سے بعض تفصیلات طلب کی تو میڈیا میں ایسا واویلہ مچایا گیا کہ جیسے اس کمیٹی نے بغاوت کا ارتکاب کردیا ہو۔ خود فوج کا رویہ بھی مثبت نہیں تھا اور بی جے پی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ عمل ملک کو تقسیم کرنے کا عمل ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی پسماندگی سمجھنے لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے یہ جانا جائے کہ یہاں کے مسلمانوں کا معاشرہ بھی ہندؤں کی طرح مکمل طور پر ذات پات پر مبنی ہے۔ شادی بیاہ سے لے کر انسانی رشتوں اور برتاؤ تک کا تعین ذات کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کے تمام اہم تعلیمی اداروں اور مذہبی اداروں پر ابتدا سے ہی اعلیٰ ذات کے مسلمانوں کا قبضہ رہا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں میں تعلیم کے لیے کبھی کوئی تحریک نہیں رہی ہے۔ مسلمانوں کے تمام بڑے مذہبی اداروں نے بلاواسطہ یا بلواسطہ طور پر جدید تعلیم کے حصول کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ ذات پات کے نظام نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خود مسلمان بھی چھو ٹے موٹے کاموں کو تعلیم پر ترجیح دیتے رہے ہیں۔
لیکن مسلمانوں کے مصائب کے لیے صرف انہیں ہی ذمے دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مسلمانوں کے معاملات ہندوستان میں شجر ممنوعہ کی طرح رہے ہیں۔ گزشتہ ساٹھ برسوں میں حکومت نے دانستہ اور منظم طریقہ سے مسلمانون کو نظرانداذ کیا ہے ۔ جہاں جہاں مسلمانوں کی آبادیاں ہیں ان علاقوں میں اسکول، بینک اور دیگر سرکاری ادارے نہیں کھولے گئے۔ سرکاری ریکارڈ اور میڈیا نے مسلمانوں کے علاقوں کو ’حساس علاقہ‘ بتایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو بینکوں سے عموما قرضے نہیں مل پاتے ۔ سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے لیے مسلمانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دیتیں۔ سیاست میں عموما ایسے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جودور جدید کے تقاضوں کے شعور سے نا آشنا تھے۔ دلت رہنما ادت راج کا کہنا ہے کہ مسلمان گزشتہ ڈیڑ ھ سو برس سے صرف مذہبی اور نزاعی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں ۔ ’وہ انتخاب میں اپنی روزی روٹی، تعلیم اور ملازمت کا سوال نہیں اٹھاتے وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ بی جے پی کو کیسے شکست ہو، یہ ایک منفی رجحان ہے‘۔ ادت راج کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو اس طرح کی نفسیات سے باہر آنا ہو گا۔
سماجی امور کے ماہر یوگیندر یادو کا بھی یہ ہی خیال ہے کہ ’مسلمان خود اپنے حقوق سے نا آشنا ہیں، تعلیم اور ملازمت میں جو سہولیات انہیں دی جا چکی ہے وہ ان کا بھی فائدہ نہیں اٹھا پائے ہیں‘۔ ہندوستان تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ پیداوار کے روایتی طریقے بدل رہے ہیں۔روایتی گھریلو صنعتیں شدید دباؤ سے گزر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں چھوٹی اکائیوں کی جگہ بڑی کمپنیاں لے لیں گی۔ نئے معاشی نظام میں چھوٹی چھوٹی ملازمت کے لیے بھی تعلیم ایک ضرورت ہوگی۔ اپنی تعلیمی پسماندگی کے سبب مسلمانوں کے لیے پیچیدگیاں اور بڑھیں گی۔ ہندوستان کا مسلمان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ اب مزید غلطیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ ایک مشکل صورتحال ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ حکومت کی طرف سے مسلمانوں کی صورتحال کو سمجھنے کی یقیناً ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اور اس سلسلے میں بعض اقدامات کے پہلے اشارے کیے جاچکے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کو بھی اپنی کمیوں کا تجزیہ کرنا ہوگا اور خود بھی انہیں دور کرنے کے راستے تلاش کرنے ہوں گے۔ | اسی بارے میں ’مسلم دیگر مذاہب سے پیچھے‘17 November, 2006 | انڈیا پردے پر اتنی بحث آخر کیوں؟19 November, 2006 | انڈیا ہندوستان میں مسلم بچوں کی بدحالی14 November, 2006 | انڈیا اقلیتوں کیلیے خصوصی پروگرام16 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||