پردے پر اتنی بحث آخر کیوں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ کی اداکارہ شبانہ اعظمی نے لندن میں گاندھی امن ایوارڈ وصول کرنے کے بعد مسلم عورتوں کے پردے کے معاملے پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ قرآن عورتوں کو چہرہ کو ڈھانپنے کی تائید نہیں کرتا ہے۔ شبانہ اعظمی کے اس بیان کے بعد ہندوستانی میڈیا میں پردے کے بارے میں ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض علماء نے شبانہ اعظمی کے بیان کی زبردست مذمت کی ہے۔ بعض دانشوروں نے ان کے بیان کی حمایت بھی کی ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں اس طرح کے معاملات بار بار میڈیا میں آنے سے مسلمانوں کے بارے عوام کے درمیان ایک منفی راۓ قائم ہوتی ہے۔ یہ بات بہت حد تک صحیح ہے کہ ہندوستان میں آج بھی بیشتر خواتین زندگی اپنی مرضی سے نہیں بلکہ معاشرے اور اپنے خاندان کے مردوں کی مرضی سے زندگی گزار رہی ہیں۔ خواتین کے ساتھ معاشرے اور مذہب کے نام پر ہونے والی تفریق میں حجاب اور پردہ بھی ایک اہم پہلو ہے۔ حجاب کا معاملہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں بار بار بحث کا موضوع بنتا رہتا ہے۔
میڈیا میں جب مسلمانوں اور مسلم خواتین سے متعلق کوئی بجث چھڑتی ہے تو عام آدمی کے ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا اسلام میں خواتین بنیادی حقوق سے محروم ہیں؟۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر مولانا کلب صادق کا کہنا ہے کہ اسلام خواتین کے بارے میں بالکل متعصب نہیں لیکن بعض مسلمان بذات خود خواتین کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک پردے کا تعلق ہے تو قرآن میں واضح طور پر احکامات ہیں کہ مردوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ جب ان کی نظر عورتوں پر پڑے تو اپنے چہرے کو جھکا لیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں عورت کو چہرے کو ڈطانپ کے رکھنے کی بات نہیں کی گئی ہے حالانکہ پردے کے موضوع کے بارے میں مسلم علماء میں اختلافات موجود ہیں۔ میڈیا میں اس طرح کے موضوع پر بحث کے بارے میں کالم نگار سعدیہ دہلوی کا کہنا ہے کہ پردے کے معاملے کو میڈیا میں منفی طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ عورت کی حیا اور انکساری ہماری تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے۔ پردہ کرنے والی خواتین کو کسی بھی طرح سے کم کیوں سمجھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’ہم ہندوستانی جدیدیت اور مغربیت میں فرق نہیں کر پا رہے ہیں۔ اتنی جلدی ہم مغربی تہذیب سے متاثر ہورہے ہیں کہ ہم اپنی تہذیب کو بھولتے جارہے ہیں۔ ہندوستان میں ہندو عورتیں گھونگٹ کرتی ہیں اور سر پر دوپٹہ رکھنا ہماری تہذیب کا حصہ ہے تو مسلمان خواتین کے پردہ کرنے پر اتنی بحث کیوں‘۔ سماجیات کے ماہر پروفیسر امتیاز احمد کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا میڈیا مسلمانوں کے بارے میں منفی رویہ رکھتا ہے اور میڈیا میں مسلمانوں کے بنیادی مسائل جیسے تعلیم اور نوکریوں کی بات کم ہی ہوتی ہے۔ ان کا خیال ہے ’ہمارے ملک میں بعض ایسی طاقتیں ہیں جو یہ دکھانا چاہتی ہیں کہ ملک کے مسلمان معاشرتی حوالے سے بہت تنہا ہیں اور مسلمان خواتین کے سماجی حالات افسوس ناک ہیں۔ میڈیا ایسے معاملے کو زور وشور سے اچھالتی ہے کیونکہ ایسا کرنے سے مسلمانوں کے بارے میں پہلے سے بنی منفی رائے مزید پختہ ہوتی ہے‘۔
پروفیسر امتیاز احمد کا یہ بھی خیال ہے پردے جیسے روزمرہ کے بنیادی سوالات کو حل کرنے میں خود خواتین کو بھی برابر کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پردہ کرنا یا نہ کرنا اس کا حق خواتین کو ہونا چاہیے کیونکہ کسی بھی آزاد سماج میں مذہب کے نام پر عورت کو دبانا غلط ہے۔ پردے کے معاملے پر بحث ایک ایسے وقت میں چھڑی ہے جب مسلمانوں کی اقتصادی اور سماجی حالات جاننے کے لیے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی تشکیل کردہ سچر کمیٹی کی رپورٹ آنے والی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس رپوٹ میں بتایا جائےگا کہ ہندوستان میں مسلمان تعلیمی اور اقتصادی طور پر پیچھے کیوں ہیں اور مسلمان خواتین کی معاشرے میں حالت افسوس ناک کیوں ہے۔ |
اسی بارے میں ’حجاب کی پابندی پر نہ اکسائیں‘08 July, 2004 | آس پاس حجاب پر پابندی کی حمایت17 December, 2003 | آس پاس ’ذاتی تحفظ کے لیے حجاب اتر سکتا ہے‘04 August, 2005 | آس پاس ترکی میں حجاب پر پابندی کی تائید 10 November, 2005 | آس پاس حجاب: مسلم خاتون ٹیچر کا دفاع 14 October, 2006 | آس پاس نقاب پر بحث میں چرچ بھی شامل15 November, 2006 | آس پاس ’نقاب پر اسٹرا کا بیان قابل تضحیک ہے‘05 October, 2006 | آس پاس ’باپردہ ٹیچر کو فارغ کردیں‘15 October, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||