BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 October, 2006, 16:09 GMT 21:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حجاب: مسلم خاتون ٹیچر کا دفاع
نقاب پوش خاتون
مسلمان ٹیچر کا کہنا ہے کہ طلب علموں کو ان سے کوئی شکایت نہیں
ملازمتوں کا ٹربیونل ایک برطانوی مسلمان ٹیچر کو حجاب پہننے کی بنا پر معطل کیئے جانے کے معاملے میں اپنا فیصلہ سنانے والا ہے۔ یہ فیصلہ دو ہفتوں میں متوقع ہے۔

کلاس میں حجاب لینے کا یہ معاملہ سابق وزیر خارجہ جیک سٹرا کے بیان کے تقریباً دو ہفتے بعد سامنے آیا ہے حالانکہ عائشہ اعظمی فروری 2006 سے اب تک معطل ہیں۔

یاد رہے کہ جیک سٹرا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ’ جب خواتین ان سے ملنے دفتر آتی ہیں تو وہ انہیں نقاب اتارنےکے لیئے کہتے ہیں تاکہ رو برو بات ہو سکے۔ میرے خدشات بے جا بھی ہوسکتے ہیں لیکن بہر حال یہ ایک مسئلہ ہے‘۔

چوبیس سالہ عائشہ اعظمی ویسٹ یارک شائر کے ایک جونئر سکول میں انگریزی کی تعلیم دیتی ہیں۔ اس سکول میں مختلف نسلی گروہوں کے بچے زیر تعلیم ہیں جن میں پنجابی، گجراتی اور اردو وغیرہ بولنے والے بچے شامل ہیں۔

ہیڈ فیلڈ چرچ آف انگلینڈ جونیئر سکول کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ کچھ طالب علموں نے شکایت کی تھی کہ انہیں ٹھیک سے سنائی نہیں دیتا کہ وہ کیا کہ رہی ہیں۔ جبکہ چوبیس سالہ عائشہ اعظمی کا کہنا ہے کہ’ انہیں اس سلسلے میں کبھی کوئی شکائت موصول نہیں ہوئی‘۔

سکول انسپکٹرز کے جائزے کے مطابق بہت سے بچے ابھی انگریزی سیکھنے کے مرحلے میں ہیں اور کچھ بچے انگلش ٹھیک سے نہیں بول پاتے۔

جب سکول کے مختلف اساتذہ اور طالب علموں نے یہ شکایت کی کہ انہیں عائشہ کی بات سمجھنے میں مشکل درپیش ہوتی ہے تو سکول نے عائشہ سے کہا کہ انہیں اس کے حجاب پر اعتراض نہیں ہے خاص طور پر اگر وہ اسے کلاس روم کے باہر یا سٹاف روم میں استعمال کرتی ہیں مگر کلاس روم میں کام کرتے ہوئے انہیں یہ حجاب اتار دینا چاہیئے تا کہ بات چیت میں آسانی ہو۔

عائشہ نے اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ میں نقاب پہنے ہوئے ہر کام کر سکتی ہوں اور جب میں اپنا کام ٹھیک طرح سے کر سکتی ہوں تو میں اسے کیوں اتاروں؟ میرے طالب علموں کو کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی اور بہت سارے طالب عموں کی مائیں بھی نقاب پہنتی ہیں اس لیئے انہیں کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ مجھے استانی رکھتے وقت حجاب پر اعتراض نہیں کیا گیا تھا‘۔

پارلیمنٹ کی مقامی رکن شاہدہ ملک سکول کے اس فیصلے کے حق میں ہیں۔ شاہدہ ملک کا کہنا ہے کہ ’ بچوں سے بات چیت کرتے ہوئے نقاب نہیں پہننا چاہیئے کیونکہ اس سے طالب علموں میں انگلش سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے‘۔ پارلیمنٹ رکن نے یہ بھی کہا کہ ’اسلام میں چھوٹے بچوں سے پردہ کرنے کی پابندی نہیں ہے‘۔

ملازمتوں کا ٹربیونل اگلے دو ہفتوں میں اس کیس کا فیصلہ سنائے گا۔

اسی بارے میں
نقاب پوش خواتین کے حق کا دفاع
08 October, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد