’نقاب بہتر تعلقات کے درمیان حائل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق برطانوی وزیر خارجہ اور دارالعوام کے قائد جیک سٹرا نے اپنے ایک مضمون میں مسلم خواتین کی طرف سے چہرے کو نقاب سے مکمل طور پر چھپانے کے عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے مختلف ’برطانوی کیمیونٹیز‘ کے درمیان بہتر اور مثبت تعلقات میں مشکل پیش آرہی ہے۔ اخبار ’لنکا شائر ایوننگ ٹیلی گراف ‘ میں جیک سٹرا لکھتے ہیں کہ چہرہ چھپانا ’خود کو علیحدہ اور مختلف دکھانے کا ایک نمایاں عمل ہے‘۔ وہ کہتے ہیں کہ خواتین جب انہیں دفتر میں ملنے آتی ہیں تو وہ انہیں نقاب اتارنے کا کہتے ہیں تاکہ ’واقعی منہ در منہ بات ہو سکے۔ میرے خدشات بے جا بھی ہوسکتے ہیں لیکن بہر حال یہ ایک مسئلہ ہے‘۔ جیک سٹرا بلیک برن کے علاقے سے منتخب ہوتے ہیں جہاں ایک چوتھائی آبادی مسلمان ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’ فون کال اور خط کے مقابلے میں ایک ملاقات کی اہمیت یہ ہے کہ آپ مخاطب کو صرف سن نہیں رہے ہوتے بلکہ اسے دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں کہ حقیقت میں وہ کہنا کیا چاہ رہا ہے‘۔ بعد میں بی بی سی ریڈیو لنکا شائر کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ (نقاب اوڑھنا) ایک مسئلہ ہے جس پر بات ہونی چاہیے، لوگوں کو چہروں سے ہی پہچانا جاتا اور ’اگر نقاب ہے تو آپ ایسا نہیں کر پاتے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بعض خواتین نقاب کیوں اوڑھتی ہیں۔ اپنے حلقے کی ایک خاتون کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے بقول نقاب میں باہر نکلتے ہوئے وہ خود کو زیادہ محفوظ سمجھتی ہیں۔ ’لیکن میرا کہنا یہ ہے کہ وہ خواتین جو نقاب پہنتی ہیں کیا وہ اس عمل کے سماجی تعلقات پر پڑھنے والے اثرات بارے سوچتی ہیں؟‘ جیک سٹرا 1997 سے لیکر 2005 تک برطانیہ کے وزیر خارجہ رہے، یہ وہ دور تھا جب عراق پر دباؤ ڈالا گیا اور پھر حملہ کیا گیا۔ | اسی بارے میں ’حجاب کی پابندی پر نہ اکسائیں‘08 July, 2004 | آس پاس ’جبہ نہیں پہن سکتی‘15 June, 2004 | آس پاس برقعے کا حُکم دینے پر لیکچرار معطل28 September, 2004 | آس پاس پاکستان میں شناخت کا بحران27 February, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||