برقعے کا حُکم دینے پر لیکچرار معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں یونیورسٹی کے ایک لیکچرار کو اپنی جماعت کی لڑکیوں کو برقعہ پہننے کا حکم دینے پر پڑھانے سے روک دیا گیا ہے۔ جہانگیر نگر یونیورسٹی میں پڑھانے والے ڈاکٹر عبیدالرحمٰان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنی جماعت کی طالبات کو ان کی مذہبی وابستگی سے قطع نظر پردہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ ڈاکٹر رحمٰان کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ جامعہ کی کئی طالب علم تنظیموں نے ان کے خلاف مظاہرہ کیا اور ان کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈاکٹر رحمٰان شعبہ طبعیات سے وابستہ تھے۔ انہوں نے اپنی جماعت میں طالبات سے کہا تھا کہ اگر انہوں نے پردہ نہ کیا تو وہ ان کو نہیں پڑھائیں گے۔ ڈاکٹر رحمٰان چند ماہ قبل جرمنی سے پی ایچ ڈی مکمل کر کے بنگلہ دیش واپس لوٹے تھے۔ ان پر ہندوؤں سمیت اپنی جماعت کے سب طالب علموں سے اللہ کی شان میں مضمون لکھوانے کا بھی الزام تھا۔ ڈاکٹر رحمٰان کا کہنا ہےکہ انہوں نے اپنا حکم واپس لے لیا تھا اور طالب علموں سے طبعیات کے کسی موضوع پر مضمون لکھنے کے لیے کہا تھا۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے سیاسی نظریات نہیں ہیں لیکن ان کے ذاتی خیال میں طالبات کو برقعہ پہننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ہدایات سے اگر کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو وہ اس کی معافی چاہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||