نقاب پوش خواتین کے حق کا دفاع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے نائب وزیرِ اعظم جان پریسکاٹ نے مسلم خواتین کے نقاب پہننے کے حق کا دفاع کیا ہے۔ جمعرات کو برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز کے لیڈر اور سابق خارجہ سیکرٹری جیک سٹرا نے یہ کہا تھا کہ انہیں اپنے حلقے کی ان مسلم خواتین سے بات کرتے ہوئے دشواری ہوتی ہے جو نقاب پہن کر ان کے دفتر آتی ہیں۔ اسی لئے وہ نقاب پوش خواتین سے، نقاب ہٹانے کی درخواست کرتے ہیں۔ بی بی سی سےگفتگو کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم جان پریسکاٹ نے کہا ہے کہ وہ نقاب پوش خاتون سے نقاب ہٹانے کا نہیں کہہ سکتے۔ انہوں نے مزید کہا ’اگرایک خاتون نقاب پہننا چاہتی ہے تو اسے کیوں نہیں پہننا چاہیئے؟ یہ اس کا اپنا انتخاب ہے۔‘ تاہم نائب وزیرِاعظم نے جیک سٹرا کے بیان کے بعد برطانیہ بھر میں نقاب کے حوالے سے شروع ہونے والی بحث کا خیر مقدم کیا ہے۔
جان پریسکاٹ نے بی بی سی ون کے ’سنڈے اے ایم‘ پروگرام میں کہا کہ ایسا کوئی بھی موضوع نہیں ہونا چاہیئے جس پر بحث نہ کی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ساتھی جیک سٹرا سے بہتر، اس مباحثے کا آغاز کوئی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ ان کے حلقے، بلیک برن میں مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ جان پریسکاٹ کے بقول وہ سابق خارجہ سیکرٹری کی طرف سے اٹھائے گئے علیحدگی کے مسئلے کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں علیحدگی کے موضوع پر زور ڈالنے سے اس لیئے ڈرتا ہوں کہ اس سے عوام میں خوف پھیلے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ نقاب ایک ثقافتی فرق ہے اور اگر میرے حلقے میں کوئی پگڑی پہن کر یا پھر گہرے سیاہ چشمے لگا کر آئے گا تو میں اسے اتارنے کا نہیں کہوں گا۔‘ ’میرے خیال میں تو آپ ان سے پھر بھی بات کر سکتے ہیں۔‘ دریں اثناء کمیونٹی اور مقامی حکومتوں کے امور کے وزیر فِل وولس نے جیک سٹرا کے بیان کی حمایت کی ہے اور متنبہ کیا ہے کہ نقاب اور برقعہ سے ’خوف اور تضحیک‘ کو ہوا ملے گی اور دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔" سنڈے مرر اخبار میں ایک تحریر میں انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مسلموں کی سوچ سے باخبر رہیں۔ فِل وولس نے کہا ’اس بات کا تعین کرنا مشکل ہو سکتا ہے، آیا کہ خواتین اپنے مذہبی عقائد کی بناء پر نقاب پہنتی ہیں یا پھر انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔‘ ’ برطانیہ میں پیدا ہونے والی مسلم خواتین کی اکثریت، اپنی مذہبی پہچان کے لیئے سے نقاب پہنتی ہیں۔ اس سے غیر مسلموں میں خوف اور تضحیک کی فضا پھیل سکتی ہے اور نسلی امتیاز کو فروغ مل سکتا ہے۔‘ برطانوی وزیر فِل وولس نے مزید کہا کہ ’ایسی صورتحال میں مسلمان اپنی روایات کا دفاع کرتے ہیں اور پھر معاشرے میں برائی در برائی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جس سے محض بی این پی جیسی نسل پرست جماعتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔‘ چند مسلم خواتین نے جیک سٹرا کے بیان کو ہتک آمیز قرار دیا تھا جبکہ بیشتر مسلمانوں نے کہا تھا کہ وہ جیک سٹرا کی تشویش کو سمجھ سکتے ہیں۔ دریں اثناء چرچ آف انگلینڈ کی طرف سے ایک دستاویز کے ذریعے حکومت کو متنبہ کیا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے مختلف عقائد کی اقلیتوں کا کردار بڑھانے کی کوششوں سے برطانوی معاشرہ پہلے سے کہیں زیادہ تفریق کا شکار ہو گیا ہے۔ لِیک ہو کر سنڈے ٹیلی گراف اخبار میں چھپنے والی یہ دستاویز آرچ بِشپ آف کینٹر بری کے مشیر کی جانب سے لکھی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سات جولائی دو ہزار پانچ کے بم دھماکوں کے بعد سے، برطانیہ میں مسلمانوں کے ساتھ الگ سلوک کیا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’نقاب پر اسٹرا کا بیان قابل تضحیک ہے‘05 October, 2006 | آس پاس ’نقاب بہتر تعلقات کے درمیان حائل‘05 October, 2006 | صفحۂ اول ترکی میں حجاب پر پابندی کی تائید 10 November, 2005 | آس پاس حجاب کے قانون کی کم خلاف ورزی 02 September, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||