’باپردہ ٹیچر کو فارغ کردیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک مقامی برطانوی وزیر نے کہا ہے کہ کلاس میں حجاب لینے والی معطل شدہ مسلمان خاتون ٹیچر کو نوکری سے برخواست کر دینا چاہیئے۔ فل وولاس نے، جو مختلف نسلی گروہوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں، کہا ہے کہ ’ عائشہ اعظمی نے اپنے لیئے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ اب وہ نوکری کرنے کے قابل نہیں رہیں‘۔ فل وولاس کا یہ بھی کہنا ہے کہ’ عائشہ غیر ضروری جنسی امتیاز کو بڑہاوا دے رہیں ہے۔ حجاب نہ اتار کر وہ بچوں کے سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہیں‘۔ ہیڈ فیلڈ چرچ آف انگلینڈ جونیئر سکول کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ کچھ طالب علموں نے شکایت کی تھی کہ انہیں ٹھیک سے سنائی نہیں دیتا کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں جبکہ عائشہ اعظمی کا کہنا ہے کہ’ انہیں اس سلسلے میں کبھی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی‘۔ جب سکول کے مختلف اساتذہ اور طالب علموں نے یہ شکایت کی کہ انہیں عائشہ کی بات سمجھنے میں مشکل درپیش ہوتی ہے تو سکول نے عائشہ سے کہا کہ انہیں اس کے حجاب پر اعتراض نہیں ہے خاص طور پر اگر وہ اسے کلاس روم کے باہر یا سٹاف روم میں استعمال کرتی ہیں مگر کلاس روم میں کام کرتے ہوئے انہیں یہ حجاب اتار دینا چاہیئے تا کہ بات چیت میں آسانی ہو۔ عائشہ اعظمی نے اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں نقاب پہنے ہوئے ہر کام کر سکتی ہوں اور جب میں اپنا کام ٹھیک طرح سے کر سکتی ہوں تو میں اسے کیوں اتاروں؟ میں بچوں کے سامنے اسے اتار سکتی ہوں مگر مرد اساتدہ کے سامنے نہیں اتاروں گی۔ میرے طالب علموں کو کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ بچے میرے بات چیت کے سٹائل اور آنکھوں کے تاثرات سے اچھی طرح واقف ہیں‘۔ عائشہ نے یہ بھی کہا کہ ’ جو لوگ اسے مسئلہ بنا رہے ہیں وہ اندھے بچوں کے بارے میں کیا کہیں گے جو نہ دیکھ سکنے کے باوجود عمدہ طریقے سے تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ میرا حجاب بچوں کی تعلیم میں کسی طرح سے بھی روکاوٹ نہیں ہے‘۔ عائشہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس ملازمت کے لیئے انٹرویو دیتے وقت انہوں نے انٹرویو لینے والے مرد گورنر کے سامنے حجاب اتار دیا تھا۔ سابق وزیر خارجہ جیک سٹرا کے حالیہ بیان نے اسے ایک مسئلے کی صورت میں ابھارا ہے۔ یاد رہے کہ جیک سٹرا نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’جب خواتین ان سے ملنے دفتر آتی ہیں تو وہ انہیں نقاب اتارنےکے لیئے کہتے ہیں تاکہ رو برو بات ہو سکے۔ میرے خدشات بے جا بھی ہوسکتے ہیں لیکن بہر حال یہ ایک مسئلہ ہے‘۔ ہوم سیکرٹری ڈیوڈ ڈیوس نے جیک سٹرا کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جیک نے ایک بنیادی مسئلے کو چھیڑا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ برطانیہ میں سماج کو تقسیم کیا جا رہا ہے‘۔ لندن میئر کین لیونگسٹن نے بھی کہا ہے کہ ان کے خیال میں مسلمان خواتین کو حجاب سے گریز کرنا چاہیئے۔ ایک سروے کے مطابق ترپن فیصد لوگوں نے جیک سٹرا کے بیان کی تائید کی ہے کہ یہ مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے درمیان رکاوٹ ہے۔ | اسی بارے میں حجاب: مسلم خاتون ٹیچر کا دفاع 14 October, 2006 | آس پاس جیک سٹرا: نقاب کےگرداب میں غلطاں15 October, 2006 | قلم اور کالم غیر مسلم لڑکیاں برقعہ میں!13 October, 2006 | انڈیا نقاب پوشی، بلیئر اور سٹرا متفق10 October, 2006 | آس پاس نقاب پوش خواتین کے حق کا دفاع08 October, 2006 | قلم اور کالم ’نقاب بہتر تعلقات کے درمیان حائل‘05 October, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||