BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 October, 2006, 01:59 GMT 06:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیک سٹرا: نقاب کےگرداب میں غلطاں

جیک سٹرا
جیک سٹرا اپنے ساتھی سیاست دانوں میں نہایت نفیس انسان مانے جاتے ہیں
دارالعوام میں حکمران لیبر پارٹی کے قائد ایوان جیک سٹرا اپنے ساتھی سیاست دانوں میں نہایت نفیس انسان مانے جاتے ہیں اور انہیں اس بات پر سخت حیرت ہے کہ جیک سٹرا نے اچانک مسلم خواتین کے نقاب پہننے کے معاملے پر یہ ہنگامہ کیوں برپا کیا ہے۔

جیک سٹرا نے برطانیہ میں تمام مسلم خواتین کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ نقاب پہننا بند کردیں۔ ان کا اصرار تھا کہ ان کے حلقہ انتخاب میں جو خواتین ان سے ملنے آئیں وہ ملاقات کے دوران نقات نہ پہنیں۔

خود جیک سٹرا نے اعتراف کیا ہے کہ مسلم خواتین کے نقاب پہننے کے بارے میں ان کے بیان پر جس شدت سے طوفان اٹھا ہے وہ ان کے لئے بے حد تعجب کا باعث ہے۔ کیونکہ ان کے حلقہ انتخاب بلیک برن کے مقامی اخبار لنکا شائر ٹیلی گراف میں اس موضوع پر ان کے مضمون کی اشاعت سے چار ماہ قبل انہوں نے اپنے انہی خیالات کا اظہار ایک مسلم کانفرنس میں کیا تھا تو اس وقت نہ تو کسی نے اس کا نوٹس لیا تھا اور نہ کوئی ہنگامہ برپا ہوا تھا۔

جیک سٹرا کے اس اظہار حیرت سے ظاہر ہوتا ہے کہ غالباً ان کا مقصدعمداً اس مسئلہ پر کوئی بڑا طوفان برپا کرنا نہیں تھا لیکن اس کے بر عکس ان کے نکتہ چینوں کا اصرار ہے کہ ان کا اصل مقصد یہی تھا کہ اس مسلہ پر طوفان برپا کرکےوہ سیاسی منظر عام پر دوبارہ ابھر سکیں کیونکہ گزشتہ مئی میں جب وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے اپنی کابینہ میں ردوبدل کیا تھا اور روزنامہ ٹائمز کے سابق ایڈیٹر ولیم ریس موگ کے دعویٰ کے مطابق جیک سٹرا کو صدر بش کے دباؤ کے تحت وزیر خارجہ کے عہدہ سے ہٹایا گیا تھا ، جب سے وہ سیاسی گمنامی کے اندھیروں میں غایب ہوتے جارہے تھے۔

اس وقت یہ بات عام تھی کہ صدر بش اس بات پر سخت ناراض تھے کہ جیک سٹرا نے کھلم کھلا ایران پر حملہ کی تجویز کو احمقانہ قراردیا تھا اور درون خانہ اس کی مخالفت کی تھی۔

برقعہ سے متعلق بیان کے بعد جیک سٹرا مسلمانوں کے عتاب کے گرداب میں پھنس گئے ہیں
جیک سٹرا کے نکتہ چینوں کا کہنا ہے کہ اب چونکہ لیبر پارٹی کی نئی قیادت کا انتخاب اگلے سال ستمبر سے پہلے ہونا ہے اور جیک سٹرا نائب لیڈر کے عہدہ کے لئے اپنی امیدواری کی ٹوپی میدان میں پھینک چکے ہیں لہذا انہیں سیاسی افق پر ابھرنے کی اشد ضرورت تھی اور آج کل مسلم خواتین کے حجاب اور نقاب کے مسلہ سے بہتر اور کوئی مسئلہ نہیں ہوسکتا جو انہیں شہرت کی بلندی پر پہنچا سکے۔

یہ ستم ظریفی ہے کہ جیک سٹرا جو مسلمانوں کےمسائل کے حل کی کوششوں میں پیش پیش رہے ہیں وہ مسلمانوں کے عتاب کے گرداب میں پھنس گئے ہیں۔ سن انیس سن ستاسی میں جب وہ حزب مخالف کے شیڈو وزیر تعلیم تھے تو انہوں نے ہی لوکل ایجوکیشن اتھاریٹیز سے یہ بات منظور کرائی تھی کہ نجی مسلم سکولوں کو سرکاری فنڈ سے مالی مدد دی جائے اور ان سکولوں کی اپنی الگ انفرادی حثیت برقرار رکھنے کا پورا اختیار ہو۔

آج برطاینہ میں ایک بڑی تعداد میں نجی مسلم اسکولوں کو سرکاری اعانت مل رہی ہے اور بلاشبہ اس کا سہرا جیک سٹرا کے سر ہے۔

اس مسئلہ پر پورے ملک میں نہایت جذباتی بحث چھڑ گئی تھی اور یہ الزام لگایا جارہا تھا کہ اس ملک میں مسلمان اپنی چار اینٹ کی مسجد الگ بنانا چاہتے ہیں اور اپنی لڑکیوں کو نجی مسلم اسکولوں میں جدا تعلیم کے ذریعہ اس معاشرہ سے الگ اور ذہنی طور پر محکوم رکھنا چاہتے ہیں۔

جیک سٹرا نے اس وقت مسلمانوں کا پر زور دفاع کیا تھا۔ ان کا استدلال تھا کہ یہ بحث کم علمی اور غلط فہمی کی وجہ سے ہورہی ہے کیونکہ اس معاشرہ کے لوگوں کو اسلام میں عورتوں کی حیثیت کے بارے میں صحیح علم نہیں ہے۔ جیک سٹرا کا کہنا تھا کہ اسلام میں عورتوں کو جایئداد کی ملکیت کا حق، یورپ کی عورتوں کو حق ملکیت کے حصول سے صدیوں پہلے حاصل تھا۔

گزشتہ فروری میں جب ڈنمارک میں ایک اخبار میں رسول پاک کے کارٹونوں کی اشاعت پر ھنگامہ بھڑکا تھا اور پوری دنیا کے مسلمانوں نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی تھی تو برطانیہ کے معدودے چند سیاست دانوں میں جیک سٹرا پیش پیش تھے جنہوں نے ان کارٹونوں کی اشاعت کی سخت مذمت کی تھی جس کی وجہ سے انہیں اپنے ساتھی سیاست دانوں اور برطانیہ میں ایک عنصر کی لعن طعن کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جیک سٹرا سن انیس سو اناسی سے بلیک برن سے پارلیمنٹ کے رکن ہیں جہاں ایک چوتھائی ووٹر مسلمان ہیں اور اس حلقہ سے ان کی متواتر کامیابی دراصل مسلم ووٹروں کی حمایت کی مرہون منت رہی ہے۔ پچھلے عام انتخابات میں البتہ افغانستان اور عراق کے خلاف جنگ کے مسلہ پر برطانیہ کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے جیک سٹرا کے رول پر ان کے حلقہ کے مسلم ووٹر ان کے خلاف بپھرے ہوئے تھے اور انہیں بڑی کڑی اور تلخ انتخابی مہم کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ کامیاب رہے البتہ پہلے سے کم ووٹوں سے۔

جیک سٹرا کی شخصیت اور ان کی سیاسی زندگی تضادات سے بھر پور رہی ہے۔ وہ ایک نہایت غریب یہودی گھر میں پیدا ہوئے۔ یارک شائر کے شہر لاؤٹن میں ان کی والدہ نے ایک سنگل مدر کی حیثیت سے محنت کشوں کی کونسل اسٹیٹ کےایک فلیٹ میں پرورش کی۔ نام ان کا جان ویٹیکر سٹرا تھا لیکن جب انہوں نے لیڈز یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم کے لئے داخلہ لیا تو چودھویں صدی کے ایک مشہور کسان رہنما کے نام پر اپنا نام جیک سٹرا رکھا۔

یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران وہ بائیں بازو کی سیاست میں پیش پیش تھے اور بائیں بازو کے اتحاد ہی کی حمایت سے سن انیس سو انہتر میں برطانیہ کی طلباء کی تنظیم نیشنل یونین آف اسٹوڈنٹس کے صدر منتخب ہوئے۔ اس زمانہ میں وہ کٹر سوشلسٹ تھے لیکن جب انیس سو ستانوے میں کئی برس کی اقتدار سے محرومی کے بعد لیبر پارٹی انتخابات میں فتح مند رہی تو جیک سٹرا وزیر داخلہ مقرر ہوئے اور اسی کے بعد ان میں بڑی تیزی سے تبدیلی آئی۔

انہی کے زمانہ میں دھشت گردی کے خلاف کاروائی کے لئے پولیس کو وسیع اختیارات دئے گئے اور انہوں نے جیوری کے ذریعہ مقدمہ کی سماعت کے حق کو محدود کرنے کی تجویز پیش کی۔

جیک سٹرا کی اس پالیسی کی خود ان کی پرانی یونین این یو ایس نے اس شدت سے مخالفت کی کہ سن دو ہزار میں ان کا داخلہ یونین کی عمارت میں ممنوع قرار دے دیا تھا۔

اب بھی بہت سے لوگ جیک سٹرا سے اس بات پر ناراض ہیں کہ انہوں نے چلی کے سابق فوجی ڈکٹیٹر اگوستو پنوشے کو جو برطانیہ میں زیر علاج تھے ملک سے جانے کی اجازت دی حالانکہ کئی ملکوں نے درخواست دی تھی کہ پنوشے پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلایا جائے۔

سن دو ہزار ایک کے انتخابات کے بعد جیک سٹرا، رابن کک کی جگہ وزیر خارجہ بنے تھے اور لوگوں کو یاد ہے کہ عراق کے خلاف جنگ کے فیصلہ کے وقت وہ ٹونی بلئیر کے آہنی دست راست تھے اور اس جنگ کی حمایت میں انہوں نے امریکہ کے موقف کی حمایت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ حیف کہ اسی امریکہ نے گزشتہ مئی میں انہیں وزارت خارجہ سے دودھ کی مکھی کی طرح نکلوا دیا۔

مسلم خواتین کے حجاب اور نقاب کے مسئلہ پر گو وہ قدرے گمنامی سے نکل کر سیاسی افق پر نمودار ہوئے ہیں اور اگر واقعی اس بحث کے پس پشت مقصد لیبر پارٹی کے نایب سربراہی کا حصول ہے تو بیشتر سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پچھلے ستائیس برس کے دوران جیک سٹرا کے نظریات میں اتنا خم آیا ہے کہ وہ سن اناسی کے جیک سٹرا سے بالکل مختلف نظر آتے ہیں اور ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
نقاب پوش خواتین کے حق کا دفاع
08 October, 2006 | قلم اور کالم
’جبہ نہیں پہن سکتی‘
15 June, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد