BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 November, 2006, 01:19 GMT 06:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نقاب پر بحث میں چرچ بھی شامل
یورپ میں مسلمان خواتین کے نقاب پہننے پر بحث کافی عرصے سے جاری ہے
روم میں کیتھولک چرچ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے مسلمان تارکین وطن سے کہا ہے کہ وہ جس ملک میں سکونت اختیار کریں اس ملک کے قوانین کا احترام کریں۔

کیتھولک چرچ کے اعلی اہلکار نے مسلمان تارکین وطن اور خاص طور پر مسلمان خواتین سے یہ بات نقاب اور پردے کے بارے میں پیدا ہونے والے تنازع کے تناظر میں کہی ہے۔

کارڈینل ریناتو مارتینو نے جو ویٹیکن میں امیگریشن کے محکمے کے سربراہ ہیں کہا کہ تارکین وطن پر لازم ہے کہ وہ جس ملک میں رہائش اختیار کریں اس ملک کے قوانین، تقافت اور مذہبی عقائد کا احترام کریں۔ کارڈینل رتناتو کے بیان سے کیتھولک چرچ بھی مسلمان تارکین وطن اور یورپی معاشروں میں ہم آہنگی کی بحث میں شامل ہو گیا ہے۔

کارڈینل ریناتو نے برطانیہ کے سابق وزیر داخلہ جیک سٹرا کے بیان کی عکاسی کی ہے جس میں انہوں نے اپنے حلقے کی خواتین سے کہا تھا کہ ان سے ملاقات کے دوران وہ اپنا نقاب اتار کر بات کیا کریں۔

جیک سٹرا نے کہا تھا کہ مسلمان خواتین کے نقاب پہنے سے معاشرے میں مشکالات پیدا ہو رہی ہیں اور اس طرح خواتین معاشرے کا حصہ نہیں بن پاتیں۔

کیتھولک چرچ کے ایک اور اعلی اہلکار آرچ بشپ اگسٹانو مارشیٹو نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ان کے کچھ مذہبی عقائد اور روایات وسیع تر معاشرے کے مفاد میں نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
نقاب پوش خواتین کے حق کا دفاع
08 October, 2006 | قلم اور کالم
جیک سٹرا: نقاب کےگرداب میں غلطاں
15 October, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد