نقاب پر بحث میں چرچ بھی شامل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روم میں کیتھولک چرچ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے مسلمان تارکین وطن سے کہا ہے کہ وہ جس ملک میں سکونت اختیار کریں اس ملک کے قوانین کا احترام کریں۔ کیتھولک چرچ کے اعلی اہلکار نے مسلمان تارکین وطن اور خاص طور پر مسلمان خواتین سے یہ بات نقاب اور پردے کے بارے میں پیدا ہونے والے تنازع کے تناظر میں کہی ہے۔ کارڈینل ریناتو مارتینو نے جو ویٹیکن میں امیگریشن کے محکمے کے سربراہ ہیں کہا کہ تارکین وطن پر لازم ہے کہ وہ جس ملک میں رہائش اختیار کریں اس ملک کے قوانین، تقافت اور مذہبی عقائد کا احترام کریں۔ کارڈینل رتناتو کے بیان سے کیتھولک چرچ بھی مسلمان تارکین وطن اور یورپی معاشروں میں ہم آہنگی کی بحث میں شامل ہو گیا ہے۔ کارڈینل ریناتو نے برطانیہ کے سابق وزیر داخلہ جیک سٹرا کے بیان کی عکاسی کی ہے جس میں انہوں نے اپنے حلقے کی خواتین سے کہا تھا کہ ان سے ملاقات کے دوران وہ اپنا نقاب اتار کر بات کیا کریں۔ جیک سٹرا نے کہا تھا کہ مسلمان خواتین کے نقاب پہنے سے معاشرے میں مشکالات پیدا ہو رہی ہیں اور اس طرح خواتین معاشرے کا حصہ نہیں بن پاتیں۔ کیتھولک چرچ کے ایک اور اعلی اہلکار آرچ بشپ اگسٹانو مارشیٹو نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ان کے کچھ مذہبی عقائد اور روایات وسیع تر معاشرے کے مفاد میں نہیں ہیں۔ | اسی بارے میں نقاب پوش خواتین کے حق کا دفاع08 October, 2006 | قلم اور کالم نقاب پوشی، بلیئر اور سٹرا متفق10 October, 2006 | آس پاس غیر مسلم لڑکیاں برقعہ میں!13 October, 2006 | انڈیا حجاب: مسلم خاتون ٹیچر کا دفاع 14 October, 2006 | آس پاس جیک سٹرا: نقاب کےگرداب میں غلطاں15 October, 2006 | قلم اور کالم ’باپردہ ٹیچر کو فارغ کردیں‘15 October, 2006 | آس پاس برطانیہ میں فسادات کی وارننگ22 October, 2006 | آس پاس بیان کے بعد نقاب کی مقبولیت میں اضافہ 05 November, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||