BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 October, 2006, 11:43 GMT 16:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ میں فسادات کی وارننگ
برطانوی معاشرے میں خلیج پیدا ہورہی ہے: ٹریور فلِپس
برطانیہ میں کمیشن برائے نسلی مساوات کے سربراہ کا کہنا ہے کہ برقعہ پر ہونے والے عوامی مباحثے کی وجہ سے ملک میں نسلی فسادات بھڑک سکتے ہیں۔

کمیشن کے سربراہ ٹریور فلِپس نے کہا کہ مسلمانوں پر ضرورت سے زیادہ تنقید کی جارہی ہے اور کچھ مسلمان زیادہ حساس ہوگئے ہیں۔

انہوں نے اخبار سنڈے ٹائمز کو بتایا کہ اس کی وجہ سے ایسا ماحول شروع ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے پانچ سال قبل شمالی انگلینڈ میں نسلی فسادات ہوئے تھے۔

ٹریور فلِپس نے برطانوی ایوان زیریں ہاؤس آف کامنز کے رہنما جیک اسٹرا کی برقعہ کے موضوع کو اٹھانے کے لیے حمایت کی۔ ٹریور فلِپس نے کہا کہ اس موضوع پر ’شریفانہ‘ مباحثے کی ضرورت ہے۔

برقعہ پر عوامی بحث
 جیک اسٹرا نے ذرائع ابلاغ میں یہ کہ کر بحث چھڑی دی تھی کہ وہ اس بات کو ترجیح دیں گے ان کے انتخابی حلقے میں خواتین ان سے بات کرتے وقت برقعہ نہ پہنیں کیوں کہ اس سے گفتگو مشکل ہوجاتی ہے۔
جیک اسٹرا نے ذرائع ابلاغ میں یہ کہ کر بحث چھڑی دی تھی کہ وہ اس بات کو ترجیح دیں گے ان کے انتخابی حلقے میں خواتین ان سے بات کرتے وقت برقعہ نہ پہنیں کیوں کہ اس سے گفتگو مشکل ہوجاتی ہے۔

ذرائع ابلاغ نے ایک مسلم ٹیچنگِ اسسٹنٹ کی کلاس میں برقعہ پہننے کی وجہ سے برطرفی کے معاملے کو اپنی سرخیوں میں بھی جگہ دی۔ برِٹش ایئرویز کی جانب سے ایک عیسائی خاتون ملازم کی برطرفی کا معاملہ بھی سرخیوں میں رہا جنہیں اس لیے برطرف کردیا گیا کہ انہوں نے علامتی ’صلیب‘ پہن رکھی تھی۔

ٹریور فلِپس کا کہنا ہے کہ یہ مباحثہ کہ عوام ایک دوسرے کے ساتھ برطانیہ میں کیسے رہیں انگریزی زبان میں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مباحثے اس طرح کے ’لحاظ‘ کے بغیر ہونے چاہیئیں جس کی وجہ سے لوگ کچھ ایسی ’باتیں‘ عوامی طور پر کہنے سے رُک جاتے ہیں جو وہ اپنی برادری کے لوگوں سے کہیں گے۔

لیکن انہوں نے کہا کہ مذہب اور نسل پر بحث اتنی شدید ہوگئی ہے کہ اس کی وجہ سے پانچ سال قبل ہونے والے نسلی فسادات جیسا تشدد پھر پیدا ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس بار تشدد زیادہ ہی برا ہوگا۔‘

کمیشن برائے نسلی مساوات کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’تمام حالیہ شواہدات سے ایسا لگتا ہے کہ ہم، ایک معاشرے کی حیثیت سے، سماجی سطح پر مذہب اور نسل کی وجہ سے زیادہ الگ تھلگ ہورہے ہیں۔‘

اسی بارے میں
’جبہ نہیں پہن سکتی‘
15 June, 2004 | آس پاس
’اللہ میڈ می فنی‘
15 June, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد