’ آزادی اظہار کی اہمیت کو مانیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں نسلی مساوات کے کمیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ برطانیہ میں آزادئ اظہار قومی کردار کا اہم حصہ ہے اور اسے برقرار رکھنا ضروری ہے چاہے اس سے کسی کے جذبات بھی مجروح ہوں۔ نسلی مساوات کےکمیشن یعنی ’کمیشن فار ریشیل ایکویلٹی‘ کے سربراہ سر ٹریور فِلپس نے آئی ٹی وی پر جوناتھن ڈمبلبی کے پروگرام میں یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ’برطانیہ میں اقلیتوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ یہاں ہم کئی بنیادی اصولوں پر متفق ہیں جس میں ایک دوسرے کو برداشت کرنا شامل ہے۔ ہمیں جمہوریت میں یقین ہے اور ہم اپنے مسائل تشدد اور ڈرانے دھمکانے کے ذریعے نہیں بلکہ ووٹ کے استعمال سے حل کرتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے مسلمان اس ملک میں شریعہ کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کر سکتے کیونکہ ’یہاں پہلے ہی ہمارے اپنے قوانین ہیں جس پر ہمارا پارلیمان، اراکین اسمبلی فیصلہ کرتے ہیں۔ جو بھی یہاں رہتا ہے اسے یہ بات قبول کرنی ہوگی۔ کہانی ختم۔‘ سر ٹریور فلپس نے کہا کہ جو مسلمان شریعہ قوانین کے تحت رہنا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ برطانیہ چھوڑ کر کسی ایسے ملک میں جا کر رہیں جہاں یہ قوانین نافذ ہوں۔ | اسی بارے میں یہ نوٹ صرف سفید فاموں کے ہیں02 May, 2004 | آس پاس نسلی تعصب اور ’ٹیک اویز‘17 August, 2004 | آس پاس ویلز میں نسلی جرائم میں اضافہ10 August, 2005 | آس پاس نسلی جرائم، مزید کوشش کی ضرورت11 September, 2005 | آس پاس برطانیہ: نسلی مباحثوں میں شدت26 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||